Read in English  
       
Men Grooming

حیدرآباد ۔ رمضان المبارک کا مہینہ برصغیر پاک و ہند خصوصاً ریاست تلنگانہ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں صرف مذہبی عبادات تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ سماجی، معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بن جاتا ہے۔ شہر کی قدیم گنگا جمنی تہذیب اور آصف جاہی دور کی شاہانہ روایات نے یہاں کے معاشرے میں نفاست اور خود آرائی کی ایسی روایت کو جنم دیا ہے جو اس مقدس مہینے میں مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ اسی تناظر میں مردانہ آرائش، خوشبو اور ذاتی نگہداشت کے رجحانات میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رمضان کے دوران مسلمان مرد سنت نبوی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے ذاتی صفائی، داڑھی کی دیکھ بھال اور خوشبو کے استعمال پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں 2024 اور 2025 کے رجحانات کے مطابق حیدرآباد میں مردانہ آرائش کے شعبے میں نمایاں موسمی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے ریاست کی مضبوط معیشت، نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی جمالیاتی حس اور عالمی فیشن رجحانات کا مقامی ثقافت کے ساتھ امتزاج اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ چنانچہ داڑھی کی ترتیب، عطریات کے استعمال اور جلد کی دیکھ بھال کے حوالے سے شعور میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

معاشی ترقی اور مردانہ آرائش کی صنعت | Men Grooming

حیدرآباد میں مردانہ آرائش کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سمجھنے کے لیے تلنگانہ کی معاشی ترقی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ ریاست نے گزشتہ دہائی میں معاشی میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب اسے ملک کے اہم معاشی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار میں 2014-15 سے 2024-25 کے درمیان 224.38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

Men Grooming

اسی دوران فی کس آمدنی 2014-15 میں ₹1,24,104 سے بڑھ کر 2024-25 میں ₹3,87,623 تک پہنچ گئی ہے۔ جب معاشرے میں بنیادی ضروریات پوری ہونے کے بعد اضافی آمدنی دستیاب ہوتی ہے تو اس کا ایک بڑا حصہ ذاتی نگہداشت اور طرز زندگی کی مصنوعات پر خرچ کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ریاست میں افراط زر کی شرح 3.7 فیصد رہی جو قومی اوسط 4.6 فیصد سے کم ہے، جس سے شہریوں کی قوت خرید مزید مضبوط ہوئی ہے۔

عطریات کی ثقافت اور رمضان کا روحانی پہلو | Men Grooming

حیدرآباد میں عطر کا استعمال صرف خوشبو تک محدود نہیں بلکہ یہ شہر کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ رمضان کے دوران خوشبو کا استعمال سنت کے طور پر کیا جاتا ہے جس سے ماحول میں روحانیت اور طہارت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے پرانے شہر کے علاقوں جیسے چارمینار، پتھر گٹی، معظم جاہی مارکیٹ اور ملے پلی میں عطریات کی تجارت اس مہینے میں اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔

یہ روایت آصف جاہی دور سے جڑی ہوئی ہے جب نظام حیدرآباد کے دربار میں مہمانوں کا استقبال عطر اور پھولوں کے ہار سے کیا جاتا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق چھٹے نظام محبوب علی پاشاہ عطریات کے خاص شوقین تھے اور ان کے لیے مخصوص خوشبوؤں کی تیاری کی جاتی تھی۔ اس دور میں صندل کے تیل کو بنیاد بنا کر مختلف پھولوں کے جوہر سے عطر تیار کیا جاتا تھا۔

چونکہ رمضان اکثر گرم موسم میں آتا ہے اس لیے حیدرآبادی مرد ایسی خوشبوؤں کو ترجیح دیتے ہیں جو جسم کو تازگی فراہم کریں۔ عطریات کو عمومی طور پر گرم اور ٹھنڈی تاثیر کے لحاظ سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح رمضان میں بخور کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا جاتا ہے جو گھروں اور مساجد میں خوشبودار ماحول پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد میں عطریات کی قیمتیں ₹100 سے شروع ہو کر ₹25,000 فی 10 ملی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں۔

داڑھی کی آرائش اور جدید رجحانات | Men Grooming

حیدرآباد میں داڑھی رکھنا ہمیشہ مذہبی اور ثقافتی روایت کا حصہ رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں یہ ایک جدید فیشن رجحان کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اب صرف داڑھی رکھنا کافی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کی ترتیب اور صحت پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ جدید حیدرآبادی نوجوان داڑھی کو نرم اور چمکدار رکھنے کے لیے مختلف مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔

حالیہ رجحانات میں مصنوعی ذہانت سے لیس ٹرمرز اور جدید گرومنگ ٹولز کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ مقامی بازاروں میں داڑھی کے تیل کی فروخت رمضان کے دوران تقریباً 40 فیصد تک بڑھ جاتی ہے کیونکہ عید کے موقع پر مرد مکمل اور گھنی داڑھی کے ساتھ نظر آنا چاہتے ہیں۔

سیلونز میں بیئرڈ فیڈ اور شارٹ باکسڈ بیئرڈ جیسے اسٹائلز کی مانگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب مرد قدرتی انداز کو ترجیح دیتے ہیں جس سے ایک سادہ مگر باوقار تاثر پیدا ہوتا ہے۔ رمضان کے دوران افطار کے بعد سیلونز میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ان اسٹائلز کو اپنانے کے لیے آتی ہے۔

جلد کی دیکھ بھال اور موسمی چیلنجز | Men Grooming

رمضان کے دوران روزے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی کا اثر جلد پر بھی پڑ سکتا ہے۔ حیدرآباد کی گرم اور خشک آب و ہوا میں جلد کی نمی برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سحر اور افطار کے اوقات میں تبدیلی اور نیند کی کمی کی وجہ سے جلد کی بے رونقی اور آنکھوں کے گرد حلقے بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔

اسی وجہ سے مرد اب جلد کی نگہداشت کے جدید طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ اسکن کیئر مارکیٹ میں فیس واش، موئسچرائزر اور ہائیڈریٹنگ سیرمز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ وٹامن سی اور ہائیلورونک ایسڈ پر مبنی مصنوعات جلد کو تروتازہ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

اسی طرح سن اسکرین، بیئرڈ سیرمز اور اینٹی پولوشن مصنوعات بھی مقبول ہو رہی ہیں۔ شہری آلودگی اور دھوپ سے بچاؤ کے لیے مرد اب ہائبرڈ موئسچرائزرز اور قدرتی اجزاء جیسے نیم، صندل اور روزمیری پر مبنی مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

حکومتی اقدامات اور تجارتی سرگرمیاں | Men Grooming

رمضان کے دوران ریاستی حکومت نے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے خصوصی اقدامات بھی کیے ہیں۔ فروری 2025 میں جاری سرکاری احکامات کے مطابق ریاست بھر میں کاروباری اداروں کو 2 مارچ سے 31 مارچ تک 24 گھنٹے کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اسی طرز پر حالیہ اجلاسوں میں بھی متعلقہ حکام کو رمضان کی تیاریوں کے حوالے سے ہدایات دی گئی ہیں۔

ان اقدامات کے باعث بازاروں میں رات دیر تک سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اور عطر، کپڑوں اور گرومنگ مصنوعات کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح رمضان نہ صرف مذہبی بلکہ معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی اہم مہینہ بن جاتا ہے۔

مستقبل کے رجحانات اور منڈی کی سمت | Men Grooming

ماہرین کے مطابق ہندوستان میں مردانہ آرائش کی صنعت 2030 تک 25.8 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس ترقی میں حیدرآباد کا اہم کردار متوقع ہے کیونکہ یہاں نوجوان نسل جدید رجحانات کو تیزی سے اپناتی ہے۔ جنریشن زی اور ملینئلز اس تبدیلی کے بنیادی محرک سمجھے جا رہے ہیں۔

آنے والے برسوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال، پائیدار مصنوعات اور صنف سے آزاد اسکن کیئر مصنوعات کا رجحان مزید بڑھے گا۔ اسی طرح گھریلو استعمال کے لیے جدید گرومنگ کٹس بھی مقبول ہوں گی جو پیشہ ورانہ نتائج فراہم کریں گی۔

اختتام میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حیدرآباد میں رمضان کے دوران مردانہ آرائش کا بڑھتا ہوا رجحان محض ایک موسمی تبدیلی نہیں بلکہ معاشرتی اور ثقافتی ارتقاء کی علامت ہے۔ روایت اور جدید طرز زندگی کے امتزاج نے اس شہر کو ایک منفرد شناخت دی ہے جہاں خوشبو، نفاست اور ذاتی نگہداشت ایک نئے طرز زندگی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔