Read in English  
       
Political Panic

حیدرآباد: بی آر ایس کے رکنِ اسمبلی اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے منگل کے روز کانگریس حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس صدر کے چندر شیکھر راؤ کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد وزرا بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق وزرا کی عجلت میں وضاحتیں پیش کرنا حکومت کی کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔

تلنگانہ بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ اپنی 25 سالہ سیاسی زندگی میں انہوں نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا کہ کوئی وزیر اعلیٰ رات 9:30 بجے میڈیا کے سامنے آ کر وضاحتیں دینے پر مجبور ہو۔ ان کے بقول یہ سب کے چندر شیکھر راؤ کے بیانات کی سیاسی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔

سیکریٹریٹ سے خوف اور انتخابات سے فرار | Political Panic

ٹی ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نئے سیکریٹریٹ میں داخل ہونے سے وہم کے باعث خوف زدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واستو کے نام پر دروازے اور گیٹ تبدیل کرنے کے باوجود وزیر اعلیٰ اب بھی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم تک محدود ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 4,000 سے زائد بی آر ایس حمایت یافتہ سرپنچ منتخب ہونے کے بعد کانگریس انتخابی شکست کے خوف میں مبتلا ہے۔ اسی لیے کوآپریٹو انتخابات سے گریز کیا جا رہا ہے اور نامزدگیوں کے ذریعے عہدے پُر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو چیلنج دیا کہ اگر ہمت ہے تو انتخابات کرائیں۔

انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کے دورے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ قائدین کی پیشگی گرفتاری اور سخت پولیس بندوبست وزیر اعلیٰ کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔

دلالوں کی حکومت اور توجہ ہٹانے کی سیاست | Political Panic

ٹی ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ ریاست ایک کنسلٹنسی کی طرح چلائی جا رہی ہے اور فیصلے ممبئی کے دلالوں کے مشورے پر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے قرضوں کے لیے 180 کروڑ روپے ادا کیے گئے اور اب گریٹر حیدرآباد کو تین حصوں میں بانٹ کر 30,000 کروڑ روپے اکٹھا کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرمارکا اور آبپاشی وزیر اتم کمار ریڈی پر بھی سنگین الزامات عائد کیے اور کہا کہ آبپاشی کاموں میں 7,000 کروڑ روپے کی بندر بانٹ ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق 20 فیصد کمیشن دینے والوں کے ہی بل منظور کیے جا رہے ہیں۔

بی آر ایس رہنما نے کہا کہ جب بھی حکومت دباؤ میں آتی ہے، توجہ ہٹانے کے لیے فون ٹیپنگ اور فارمولہ ای ریس جیسے معاملات اچھالے جاتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی دباؤ میں مقدمات درج کرنے والے افسران کو مستقبل میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے ڈی جی پی انجنی کمار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فٹ بال میچوں کی سیکیورٹی پر توجہ دینے کے بجائے کانسٹیبلز اور ہوم گارڈز کی فلاح پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے دریائے کرشنا کے پانی کے استعمال پر حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے اتم کمار ریڈی کے 45 ٹی ایم سی بیان کو تاریخی غلطی کہا اور اسے 90 ٹی ایم سی تک درست کرنے کا مطالبہ کیا۔