Read in English  
       
Phone Tapping SIT

حیدرآباد: بھارتیہ راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے پیر کے روز فون ٹیپنگ معاملے پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ وی سی سجنار کے بیان کو جانبدارانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے پہلے اس عمل کو غیر قانونی کہنا تشویشناک اور آئینی اصولوں کے منافی ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوال اٹھایا کہ تحقیق کے مرحلے میں کسی معاملے کو غیر قانونی قرار دینا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق صرف مجاز عدالت ہی یہ طے کر سکتی ہے کہ آیا کوئی جرم سرزد ہوا ہے یا نہیں، جبکہ اس طرح کے بیانات قانونی طور پر ناقابلِ جواز ہیں۔

ایس آئی ٹی کی غیر جانبداری | Phone Tapping SIT

آئینی نکات کی وضاحت کرتے ہوئے رہنما نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 21 ہر شہری کو بے گناہی کے تصور کی ضمانت دیتا ہے۔ مزید یہ کہ پولیس کا کام صرف تفتیش کرنا ہے، فیصلہ سنانا یا جرم ثابت کرنا نہیں۔ اسی لیے، ان کے بقول، تفتیشی اداروں کو الفاظ کے چناؤ میں بھی غیر جانبداری برقرار رکھنی چاہیے۔

انہوں نے قانونی پہلو بیان کرتے ہوئے کہا کہ فون کی نگرانی کے لیے انڈین ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعہ 5(2) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعات پر سختی سے عمل ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے فیصلے پی یو سی ایل بنام یونین آف انڈیا میں طے شدہ حفاظتی اصول بھی لازمی ہیں، اور ان کی خلاف ورزی کا تعین صرف عدالت کر سکتی ہے۔

سیاسی حساسیت اور جانچ | Phone Tapping SIT

بی آر ایس رہنما کا کہنا تھا کہ “غیر قانونی فون ٹیپنگ” جیسے الفاظ پہلے سے قائم نتیجے کی عکاسی کرتے ہیں، جو آل انڈیا سروسز کنڈکٹ رولز کے تحت مطلوبہ غیر جانبداری کے خلاف ہے۔ مزید برآں، سیاسی طور پر حساس مقدمات میں قبل از وقت بیانات جانچ پر شکوک پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ تحقیقات نہ صرف منصفانہ ہونی چاہئیں بلکہ عوام کو بھی منصفانہ نظر آنی چاہئیں، کیونکہ عوامی اعتماد اسی معیار پر قائم رہتا ہے۔ اسی تناظر میں، انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے کے چندر شیکھر راؤ کو قائدِ حزبِ اختلاف تسلیم کیوں نہیں کیا، اور کہا کہ تلنگانہ کے عوام اس کی وضاحت کے مستحق ہیں۔