Read in English  
       
Online Gaming Bill

حیدرآباد: مرکزی کابینہ نے Online Gaming Billکو منظوری دے دی ہے جس کے تحت آن لائن بیٹنگ کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے تصدیق کی کہ اس بل میں سخت سزائیں اور بھاری جرمانے شامل ہیں اور اسے بدھ کے روز لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔

اس بل کے تحت اب مرکز براہ راست آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز پر نگرانی کرے گا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس قانون کا مقصد ڈیجیٹل بیٹنگ ایپس کی آزادانہ سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ ملک بھر میں آن لائن بیٹنگ کی لت کے باعث اب تک سیکڑوں افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں۔

ابتدائی طور پر بیٹنگ ایپس صارفین کو بونس آفرز کے ذریعے لبھاتی ہیں، مثلاً 100 روپئے پر 2000 روپئے یا 1000 روپئے پر 3000 روپئے ۔ لیکن ایک بار پھنسنے کے بعد صارفین اس لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جو عمل ابتدا میں صرف چند نوجوانوں تک محدود تھا وہ اب سرکاری ملازمین، پولیس اہلکاروں، انجینئروں، بینک ملازمین اور دیگر طبقات تک پھیل گیا ہے۔ اندازوں کے مطابق 95 فیصد صارفین کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور کئی افراد خودکشی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

تلنگانہ میں ریاستی پابندی کے باوجود روزانہ چار نئی بیٹنگ ایپس سامنے آ رہی ہیں۔ یوٹیوب، سوشیل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس پر ان کے اشتہارات عام ہیں۔ پولیس زیادہ تر بڑے واقعات کے بعد ہی کارروائی کرتی ہے، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس روش سے بیٹنگ آپریٹرز کو پھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ آپریٹرز اکثر نام تبدیل کر کے اور پرانے صارفین کو نئے صارفین لانے پر کمیشن دے کر اپنے دائرے کو وسیع کر لیتے ہیں۔

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ Online Gaming Bill ملک بھر میں اس خطرناک رجحان پر قابو پانے اور ان سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لیے سخت کنٹرول نافذ کرے گا۔