Read in English  
       
Mohammed Siraj

حیدرآباد ۔ ایشیا کپ 2025 کا خطاب جیتنے کے صرف تین دن بعد ہی ٹیم انڈیا ٹیسٹ میدان میں واپس لوٹی۔ تاہم اصل واپسی 58 دن بعد ہوئی کیونکہ انگلینڈ میں سیریز ختم ہونے کے بعد بھارتی ٹیم پہلی مرتبہ ٹیسٹ فارمیٹ میں اتری ہے ۔ 2 اکتوبر کو احمدآباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا آغاز ہوا اور پہلے ہی دن Mohammed Siraj اور کے ایل راہل نے شاندار کارکردگی دکھائی۔

پہلے بیٹنگ کرنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم محض 162 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ اس تباہی کی سب سے بڑی وجہ محمد سراج بنے جنہوں نے اپنی نپی تلی گیندوں سے حریف بلے بازوں کو بے بس کردیا اور 4 وکٹیں حاصل کیں۔ سراج نے پہلے ہی اوورز میں 21 مہینوں بعد واپس آنے والے تَیگنرائن چندرپال کو کھاتہ کھولنے سے پہلے ہی آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے برینڈن کنگ اور ایلِک ایتھناز کو پے در پے اوورز میں شکار بنایا۔ ویسٹ انڈیز کے کپتان راسٹن چیز بھی سراج کی شاندار گیند پر پویلین واپس لوٹ گئے۔

اگرچہ محمد سراج پہلی بار گھریلو میدان پر 5 وکٹیں لینے کے قریب پہنچ کر چوک گئے لیکن ان کی تباہ کن بولنگ نے انڈیز کو فوری طور پر دباؤ میں ڈال دیا۔ ان کا ساتھ جسپریت بمراہ نے بخوبی دیا جنہوں نے دو شاندار یارکرز سے اسٹمپس اڑائے، جبکہ کلدیپ یادو نے بھی 2 وکٹیں حاصل کیں۔

کے ایل راہل اور اوپننگ پارٹنرشپ

بلے بازی میں کے ایل راہل نے اپنی انگلینڈ والی فارم برقرار رکھی اور محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی۔ یشسوی جیسوال کے ساتھ ان کی شراکت 68 رنز تک پہنچی۔ جیسوال ابتدا میں سست رہے لیکن بارش کے وقفے کے بعد کچھ تیز رفتار شاٹس لگائے اور 36 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ سائی سدرشن موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور جلد پویلین لوٹ گئے۔

Mohammed Siraj کی تباہ کن بالنگ کے بعد ہندوستانی اننگ میں آج کے اسٹار رہے راہل 20ویں نصف سنچری بنا کر پہلے دن کھیل کے اختتام پر کپتان شبمن گل کے ساتھ ناٹ آؤٹ واپس لوٹے۔ بھارت نے دن کے اختتام پر دو وکٹ کھو کر 121 رنز بنائے اور میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔