Read in English  
       
Samuel Controversy

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے حلقہ تنگاترتی سے منتخب رکن اسمبلی مندولا سیموئیل نے اپنے بیان پر پیدا ہونے والے سیاسی تنازع کے بعد وضاحت پیش کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کے ریمارکس کے بعد مختلف سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی جس پر انہوں نے میڈیا کے سامنے وضاحت دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد کسی برادری کی توہین کرنا نہیں تھا۔ تاہم اگر کسی کو ان کے الفاظ سے تکلیف پہنچی ہو تو وہ اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

پس منظر میں اتوار کو گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ برہمن برادری کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا جس سے غیر ضروری تنازع پیدا ہوا۔ مزید یہ کہ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا بیان کسی خاص طبقے کے خلاف نہیں تھا۔

انہوں نے اپنی وضاحت میں بتایا کہ وہ اپنے حلقہ ارواپلی کے ایک مندر میں باقاعدگی سے جاتے ہیں اور وہاں پجاریوں سے آشیرواد حاصل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاست میں آنے سے پہلے بھی وہ تمام مذاہب اور ذاتوں کا احترام کرتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے برہمن برادری سے اپیل کی کہ وہ ان کے بیان کو غلط نہ سمجھیں اور ناراض نہ ہوں۔

سیاسی ردعمل اور وضاحت | Samuel Controversy

اپنے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی جدوجہد سے بھری رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ غربت اور مشکلات کے درمیان آگے بڑھے اور کئی مواقع پر توہین اور مشکلات کا سامنا کیا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ وہ کبھی جوتے سینے کا کام کرتے تھے اور اسی جدوجہد کے بعد عوامی زندگی میں آگے آئے۔

اسی دوران انہوں نے اپنے بیان پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کہا کہ بنڈی سنجے کے تبصرے نامناسب تھے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر دلت تنظیمیں کریم نگر میں مارچ نکالنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ چنانچہ اس معاملے نے سیاسی سطح پر مزید بحث کو جنم دیا۔

سیاسی تنازع اور پارٹی مؤقف | Samuel Controversy

انہوں نے اپنے انتخابی حلقے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تنگاترتی میں 52000 ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کو وہاں تقریباً 2000 ووٹ ملے تھے۔ اس طرح انہوں نے اپنی عوامی حمایت کو بھی اجاگر کیا۔

مزید برآں انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ دلت اور محروم طبقات کو اہم عہدے دیے ہیں۔ انہوں نے مثال کے طور پر امبیڈکر، جگجیون رام اور میرا کمار جیسے رہنماؤں کو نمایاں عہدوں پر فائز کیے جانے کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق پارٹی کی پالیسی سیکولر اقدار اور سماجی نمائندگی پر مبنی ہے۔

اختتام میں انہوں نے بنڈی سنجے کو مزید بیانات دینے سے گریز کرنے کی تنبیہ کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اشتعال انگیز تبصرے جاری رہے تو وہ قانونی کارروائی کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی وزیر ہونے کے ناطے بنڈی سنجے کو تلنگانہ کی ترقی کے لیے فنڈز لانے پر توجہ دینی چاہیے۔