Read in English  
       
Mee Seva New System

حیدرآباد: می سیوا نظام نے ایک نیا طریقہ کار متعارف کروایا ہے جس کے تحت بی سی، ایس سی اور ایس ٹی شہریوں کے لیے ذات سرٹیفکیٹ کا حصول آسان ہوگیا ہے۔ اس اقدام سے خاص معاملات کو چھوڑ کر باقی درخواستوں میں تحصیلدار کی منظوری درکار نہیں ہوگی۔ یہ سہولت براہ راست Mee Seva New System کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔

پہلے ہر درخواست کے لیے تحصیلدار کی منظوری لازمی تھی جس کی وجہ سے کئی شہریوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انڈسٹریز کے وزیر دودڈیلا سری دھر بابو کی ہدایت پر می سیوا نے اس مسئلے کا جائزہ لیا۔ سی سی ایل اے، بی سی ویلفیئر، ایس سی ویلفیئر، ضلعی انتظامیہ اور تحصیلداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد نیا نظام شروع کیا گیا۔

عوامی ردعمل اور اعداد و شمار

یہ سہولت 15 دن پہلے نافذ کی گئی تھی۔ اس دوران 17,571 شہری اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ مزید برآں، حکام کا اندازہ ہے کہ ہر سال تقریباً 20 لاکھ درخواستیں ذات سرٹیفکیٹ کے لیے دی جاتی ہیں۔

نئے عمل کی خصوصیات

نئے سرٹیفکیٹس میں اس افسر کی تفصیل درج ہوگی جس نے پچھلی بار درخواست منظور کی تھی، ساتھ ہی دوبارہ اجراء کی تاریخ بھی درج ہوگی۔ تاہم، خصوصی معاملات مثلاً برادری کی تبدیلی یا مذہب کی تبدیلی کی صورت میں درخواستیں بدستور سرکاری احکامات کے مطابق ہی نمٹائی جائیں گی۔

اگر درخواست گزار کے پاس پرانے سرٹیفکیٹ کا نمبر موجود ہو تو وہ کسی بھی می سیوا کاؤنٹر سے نئی کاپی حاصل کرسکتا ہے۔ بصورت دیگر، ریکارڈ کو ضلع، منڈل، گاؤں، ذیلی ذات اور نام کی تفصیلات سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔

حکام کا بیان

اس درمیان، می سیوا کمشنر روی کرن کے مطابق عوام اس سہولت کے لیے قریبی مرکز یا ویب سائٹ سے بھی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ Mee Seva New System شہریوں کے لیے وقت اور سہولت دونوں بچانے کا ایک اہم قدم ہے۔