Read in English  
       
Mahbubnagar Tragedy

حیدرآباد: محبوب نگر میں ایک دلخراش منظر سامنے آیا، جہاں پریم نگر کے رہنے والے بالا راج اپنے آٹھ سالہ بیٹے کی میت گود میں لیے آٹھ گھنٹے شمشان گھاٹ میں بیٹھے رہے۔

غربت، بے بسی اور ایک باپ کا غم | Mahbubnagar Tragedy

بالا راج نے کہا کہ جب بچہ زندہ تھا تب بھی اسے پیٹ بھر کھلانے کی سکت نہیں تھی، اور اب آخری رسومات کیلئے بھی پیسے نہ ہونے پر وہ بے یار و مددگار رہ گیا۔

بالا راج ایک کاٹن مِل میں مزدوری کرتا تھا، مگر مِل بند ہونے کے بعد گھر کا واحد سہارا ختم ہوگیا۔ بیوی چھوٹے بچے کو لے کر میکے چلی گئی، جبکہ معذور بڑا بیٹا ہریش، باپ کے ساتھ رہ گیا۔

بچے کی بگڑتی صحت اور مسلسل مالی دباؤ | Mahbubnagar Tragedy

بالا راج نے ایک چھوٹے ہوٹل میں کام شروع کیا، مگر آمدنی محدود تھی۔ اس کے مطابق ماں کے جانے کے بعد ہریش کی حالت بگڑتی گئی۔ علاج کے پیسے نہ ہونے کے سبب بچہ کئی ہفتے بیمار رہا اور آخرکار چل بسا۔

پیسے نہ ہونے پر بالا راج بیٹے کی میت اٹھا کر شمشان گھاٹ پہنچا اور گھنٹوں بیٹھا رہا کہ کس سے مدد مانگے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ وہ مسلسل رو رہا تھا اور خود کو قصوروار ٹھہرا رہا تھا۔

سماجی تنظیم کی مدد اور آئندہ کیلئے اپیل | Mahbubnagar Tragedy

مقامی افراد نے صورتِ حال دیکھ کر ’’وی فاؤنڈیشن‘‘ کو اطلاع دی۔ فاؤنڈیشن کے ارکان فوراً پہنچے اور آخری رسومات مکمل کرانے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی والد ایسا دکھ نہ جھیلے اور مزید تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

مقامی رہائشیوں نے حکام اور فلاحی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ایسے خاندانوں کیلئے بروقت سہارا فراہم کیا جائے تاکہ المیے اس حد تک نہ پہنچیں۔