Read in English  
       
IT Scam

حیدرآباد: مادھا پور میں ایک بڑی دھوکہ دہی اس وقت سامنے آئی جب این ایس این اِنفو ٹیک نامی جعلی آئی ٹی کمپنی کروڑوں روپئے لے کر راتوں رات غائب ہو گئی۔ بغیر اطلاع دفتر بند کر دیا گیا، جس سے سینکڑوں طالب علم حیران اور خوفزدہ رہ گئے۔ کمپنی کئی ماہ سے سرگرم تھی اور پیشہ ورانہ کورسز کے نام پر طلبہ کو راغب کرتی رہی۔

ابتدا میں کمپنی نے فل اسٹیک ڈیولپمنٹ، ڈیٹا سائنس اور سائبر سیکیورٹی جیسے کورسز کی باقاعدہ کلاسیں منعقد کیں۔ انتظامیہ نے یقین دلایا تھا کہ ٹریننگ مکمل ہوتے ہی اسی کمپنی میں ملازمت دی جائے گی۔ ہر طالب علم نے 2,50,000 سے 3,00,000 روپئے ادا کیے، جس کے نتیجے میں قریب 400 طلبہ سے مجموعی طور پر 10 سے 12 کروڑ روپئے جمع کیے گئے۔

جعلی کمپنی کے طور طریقے اور اچانک فرار | IT Scam

طلبہ کے مطابق ابتدا میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر کچھ ہفتوں بعد کمپنی کے ردِعمل میں تاخیر اور عملے کی خاموشی نے شکوک پیدا کر دیے۔ بدھ کی صبح جب طلبہ دفتر پہنچے تو دروازے پر تالہ لگا ہوا تھا اور عمارت پر کمپنی کا بورڈ بھی ہٹا دیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے تمام واٹس ایپ گروپس ڈیلیٹ کر دیے اور فون بھی بند کر لیے۔

طلبہ نے بلڈنگ کے مالک سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ کمپنی نے کرایہ ادا نہیں کیا تھا، اور اسی وجہ سے تالہ لگا دیا گیا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ پوری انتظامیہ فرار ہو چکی ہے۔ کئی طلبہ نے افسوس ظاہر کیا کہ ان کے خاندانوں نے جمع پونجی خرچ کر کے انہیں کورس میں داخلہ دلایا تھا، مگر اب سب کچھ ضائع ہو گیا۔

ملزمان کی گمشدگی اور متاثرین کی کارروائی | IT Scam

اس فراڈ کا مبینہ ماسٹر مائنڈ سوانی نائیڈو اپنی اہلیہ اور ساتھیوں کے ساتھ غائب ہو گیا۔ طلبہ کے فون کالز اور پیغامات کا کہیں جواب نہیں دیا گیا۔ حالات بگڑتے دیکھ کر طلبہ شکایت درج کرانے کی تیاری کرنے لگے تاکہ مالی نقصان کی تلافی کے لیے قانونی کارروائی شروع ہو سکے۔

متاثرہ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ان کے مستقبل پر گہرا اثر ڈالا ہے، کیونکہ زیادہ تر نے ملازمت کی امید میں بھاری رقوم ادا کی تھیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پولیس جلد کارروائی کرے گی کیونکہ معاملہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپئے کے نقصان کا ہے۔