Read in English  
       
Exam Irregularity

حیدرآباد ۔ حیدرآباد کے علاقے کوکٹ پلّی میں ایس ایس سی امتحانات کے دوران ایک مبینہ ضابطہ خلاف ورزی سامنے آئی ہے جہاں تقریباً 80 طلبہ کو ان کے اپنے ہی اسکول کو امتحانی مرکز کے طور پر الاٹ کر دیا گیا۔ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد والدین اور تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

یہ معاملہ کوکٹ پلّی کے نیو ایرا اسکول سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔ والدین اور تعلیم سے وابستہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے امتحانی نظام کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تعلیمی ضوابط کے مطابق کسی بھی اسکول کے طلبہ کو اسی اسکول کو امتحانی مرکز کے طور پر الاٹ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس معاملے میں متعلقہ حکام نے اس اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے اسی کیمپس کو امتحانی مرکز کے طور پر استعمال کیا۔

ضابطہ خلاف ورزی پر تنقید | Exam Irregularity

ذرائع کے مطابق حکام نے اس معاملے کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی اور اس بارے میں عوامی سطح پر کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ مزید برآں ضلع تعلیمی افسر پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے مرکز الاٹمنٹ سے متعلق تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

رپورٹس کے مطابق اسکول انتظامیہ نے طلبہ کو ہدایت دی کہ وہ اپنے ہال ٹکٹ دوسروں کو نہ دکھائیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ہدایات نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔

والدین اور تعلیمی تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ بعض نجی اسکول اور متعلقہ حکام ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایسے فیصلے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات کا مقصد امتحانات میں زیادہ نمبر حاصل کرنے کے امکانات کو بڑھانا ہوتا ہے۔

امتحانی نظام پر اثرات | Exam Irregularity

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے معاملات کی مکمل تحقیقات نہ کی جائیں تو امتحانی نظام کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ مزید برآں ایسے اقدامات دوسرے طلبہ کے لیے غیر منصفانہ صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔

والدین نے مطالبہ کیا کہ حکام اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کریں۔ ان کے مطابق امتحانات کے نظام میں مساوات اور اعتماد برقرار رکھنا تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ضوابط پر سختی سے عمل نہ کیا جائے تو مستقبل میں بھی اسی طرح کے تنازعات سامنے آ سکتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ امتحانی مراکز کے تعین کے عمل میں مکمل شفافیت اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔