Read in English  
       
KTR

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ صدر کے۔ ٹی۔ راما راؤ KTRنے مرکزی حکومت سے فوری طور پر پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی پر ایکسائز ڈیوٹی اور سیس میں کمی کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ ٹیکسز اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہاتھ کرگھا مصنوعات، لائف اور ہیلتھ انشورنس، تعلیمی فیس، کینسر کی دوائیں اور دیگر جان بچانے والی ادویات پر جی ایس ٹی ختم کرنے پر زور دیا۔

بدھ کے روز دہلی میں ہونے والی جی ایس ٹی کونسل میٹنگ سے قبل کے ٹی آر نے مرکز کو کھلا خط لکھتے ہوئے کہا کہ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے ٹیکس اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق ہاتھ کرگھا مصنوعات پر جی ایس ٹی کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ ہماری ذمہ داری کے ساتھ ہمارا حق بھی ہے۔

کے ٹی آر نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 12 فیصد جی ایس ٹی سلیب کو ختم کرنے کو بڑی اصلاحات کے طور پر پیش کرنا گمراہ کن ہے کیونکہ یہ سلیب 22 لاکھ کروڑ کے جی ایس ٹی ریونیو میں صرف 5 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ ان کے بقول غریب اور متوسط طبقے کو فائدہ پہنچانے کے دعوے محض سیاسی دکھاوا ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ مودی حکومت نے پہلے ہاتھ کرگھا پر جی ایس ٹی کو 5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کی کوشش کی تھی مگر شدید مخالفت کے بعد اسے مؤخر کرنا پڑا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ بُنکاری محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثہ ہے جسے ٹیکس سے مکمل استثنیٰ ملنا چاہیے۔

ایندھن پر ٹیکس کو مہنگائی کی جڑ قرار دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ایکسائز ڈیوٹی اور سیس کی شرحوں میں اضافہ عوام پر بوجھ ڈال رہا ہے حالانکہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں 2014 کی سطح پر آ چکی ہیں۔ ان کے مطابق مرکز نے سیس کے ذریعے ایندھن کی قیمتیں بڑھا کر ریاستوں کے حصے کی آمدنی روک دی ہے۔

کے ٹی آر نے کہا کہ جب تک ایندھن پر ٹیکس کم نہیں کیے جاتے تب تک اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق صرف جی ایس ٹی میں معمولی تبدیلیاں مسئلے کا حل نہیں، اگر مرکز واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر ایکسائز ڈیوٹی گھٹا کر سیس ختم کرنا ہوگا۔