Read in English  
       
Honey Trap

حیدرآباد: تلنگانہ کے کریم نگر دیہی پولیس نے بدھ کے روز ایک شوہر اور بیوی کو سوشل میڈیا کے ذریعے ہنی ٹریپ ریکیٹ چلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق دونوں نے ناکام کاروبار میں ہونے والے نقصانات پورے کرنے کے لیے یہ مجرمانہ راستہ اختیار کیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد ضلع میں سنسنی پھیل گئی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ ملزمان کا تعلق منچریال ضلع سے ہے اور وہ گزشتہ 10 برس سے کریم نگر کے ارے پلی علاقے میں مقیم تھے۔ شوہر ماربل اور انٹیریئر کے کاروبار سے وابستہ تھا، جبکہ بیوی یوٹیوب چینل چلاتی تھی۔ تاہم مسلسل مالی نقصان اور فلیٹ کی ای ایم آئی نے دونوں کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔

سوشل میڈیا کے ذریعے جال | Honey Trap

تحقیقات کے مطابق آسان رقم حاصل کرنے کے لیے دونوں نے باہمی منصوبہ بندی کے تحت ہنی ٹریپ ریکیٹ شروع کیا۔ خاتون نے انسٹاگرام پر نیم عریاں تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر کے مردوں کو راغب کیا۔ رابطے میں آنے والوں کو وہ اپنے فلیٹ پر بلاتی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نجی لمحات کے دوران شوہر خفیہ طور پر ویڈیوز ریکارڈ کرتا تھا۔ بعد ازاں ان ویڈیوز کے ذریعے متاثرین کو بلیک میل کیا جاتا اور رقم نہ دینے کی صورت میں ویڈیوز وائرل کرنے یا جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتیں۔

سو سے زائد متاثرین، کروڑوں کا اثاثہ | Honey Trap

پولیس کے مطابق گزشتہ 3 برسوں میں اس جوڑے نے 100 سے زائد افراد کو نشانہ بنایا۔ متاثرین میں تاجر، ڈاکٹر اور طلبہ شامل تھے، جن سے کئی لاکھ روپئے بٹورے گئے۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ غیر قانونی کمائی سے 65 لاکھ روپئے مالیت کا پلاٹ خریدا گیا، اس کے علاوہ ایک لگژری کار اور قیمتی فرنیچر بھی حاصل کیا گیا۔

ایک معاملے میں کریم نگر کے ایک لاری تاجر سے 13 لاکھ روپئے وصول کیے گئے تھے۔ بعد میں مزید 5 لاکھ روپئے کا مطالبہ کیے جانے پر متاثرہ شخص نے پولیس سے رجوع کیا۔

شکایت کی بنیاد پر دیہی سی آئی نرنجن ریڈی کی قیادت میں ٹیم نے بدھ کے روز دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والے موبائل فون، ایک کار اور نقد رقم ضبط کر لی ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔