Read in English  
       
Traffic Jam

حیدرآباد: کاماریڈی ضلع میں قومی شاہراہ NH-44 بارش سے بری طرح متاثر ہوگئی جس کے باعث گاڑیاں کئی گھنٹوں تک Traffic Jam میں پھنس گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بارش اور نقصانات

گزشتہ دو دنوں کی موسلا دھار بارش نے کئی مقامات پر سڑک کو نقصان پہنچایا۔ ٹکریال اور سارم پلی کے پلوں میں شگاف پڑ گئے جبکہ شاہراہ کے کچھ حصے پانی کے بہاؤ میں بہہ گئے۔ نتیجتاً حیدرآباد اور عادل آباد کے درمیان ٹریفک انتہائی سست روی کا شکار ہوگیا۔

ٹریفک جام

سداشیونگر منڈل سے بھیکنور ٹول گیٹ تک تقریباً 15 کلو میٹر تک ٹریفک جام رہا۔ ٹرکوں، پرائیویٹ اور سرکاری بسوں کی قطاروں نے مسافروں کی پریشانی بڑھا دی۔ پولیس کی موجودگی کے باوجود گاڑیاں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک پھنسی رہیں۔

حکام کی کارروائی

ضلعی ایس پی راجیش چندرا نے ذاتی طور پر ٹریفک کلیئرنس کی نگرانی کی۔ اس کے باوجود متاثرہ پلوں اور سڑک کے حصوں کی تباہی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ محکمہ انجینئرنگ نے نقصانات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ مکمل مرمت تک ٹریفک میں وقفے وقفے سے رکاوٹ رہے گی۔

عوامی مطالبہ

مسافروں اور مقامی افراد نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) اور ضلعی حکام سے فوری مرمت اور بحالی کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ NH-44 حیدرآباد کو شمالی تلنگانہ اور مہاراشٹرا سے جوڑنے والی سب سے مصروف شاہراہ ہے۔