Read in English  
       
Kaleshwaram

حیدرآباد: بی آر ایس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر ٹی. ہریش راؤ نے کانگریس حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ مون سون کے عروج پر Kaleshwaram Project کی بندش کسانوں کو سنگین بحران میں دھکیل رہی ہے۔

سیاسی انتقام یا انتظامی ناکامی؟

اسمبلی میڈیا پوائنٹ پر گفتگو کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس نے، چونکہ سیاسی انتقام کی نیت رکھتی ہے، اس لیے کالیشورم کی موٹروں کو بند رکھا ہے۔ ان کے بقول، اس فیصلے کے نتیجے میں کسانوں کی فصلیں شدید خطرے میں پڑ چکی ہیں۔

قدرتی پانی دستیاب، لیکن سپلائی بند

انہوں نے نشاندہی کی کہ دریاؤں میں طغیانی ہے اور ایس آر ایس پی ایک دن میں لبریز ہو چکا ہے۔ تاہم، مِڈ منآیر کو اب تک ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملا۔ ان کے مطابق، یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ کسانوں کی زندگیوں پر براہ راست حملہ ہے۔

فوری اقدام کا مطالبہ

مزید برآں، ہریش راؤ نے بتایا کہ انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مکتوب بھیجا ہے۔ اس خط میں فوری کارروائی اور پمپ آن کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ رویہ، درحقیقت، انتظامیہ نہیں بلکہ سیاسی سزا کے مترادف ہے۔

وزیر آبپاشی پر بھی تنقید

اس کے علاوہ، ہریش راؤ نے وزیر آبپاشی اُتم کمار ریڈی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ نہ وزیر اعلیٰ اور نہ وزیر آبپاشی، دونوں ہی اس مسئلے کی شدت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت دراصل کسانوں کو نشانہ بنا کر بی آر ایس کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔

کسانوں کو سیاسی کھیل سے نکالنے کی اپیل

آخر میں، انہوں نے زور دے کر کہا کہ پمپ فوری طور پر چلائے جائیں اور ذخائر کو پانی سے بھرا جائے۔ اس کے باوجود، ان کا مطالبہ تھا کہ کسانوں کو سیاسی کھیل کا مہرہ نہ بنایا جائے۔ اگر فوری اقدام نہ کیا گیا تو، نتیجتاً، نقصانات ناقابل تلافی ہو سکتے ہیں۔