Read in English  
       
CBI Probe

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے پیر کو کالیشورم بیراجوں میں بدعنوانیوں اور ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے CBI Probeکا حکم دیا۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے اسمبلی میں اس فیصلے کا اعلان کیا۔

کالیشورم پر سی بی آئی انکوائری سے سیاسی ہلچل

یہ فیصلہ سیاسی اعتبار سے اہم ہے کیونکہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت بی آر ایس حکومت نے 2022 میں جی او نمبر 51 کے تحت تلنگانہ میں سی بی آئی کو عام رضامندی واپس لے لی تھی۔ اس فیصلے کے بعد سی بی آئی کسی کیس کی تحقیقات تب تک نہیں کرسکتی تھی جب تک ریاستی حکومت خصوصی منظوری نہ دیتی۔

یہ پابندی اُس وقت لگائی گئی جب ایم ایل ایز کی مبینہ خریدو فروخت کیس میں بی آر ایس نے بی جے پی پر الزامات عائد کیے تھے۔ اُس وقت سیاسی محرکات پر مبنی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر کے سی آر حکومت نے سی بی آئی کے اختیارات محدود کردیے تھے۔ تاہم عدالتوں کو اختیار حاصل رہا کہ وہ کسی کیس کو سی بی آئی کے سپرد کرسکیں۔ مثال کے طور پر اس سال کے اوائل میں سپریم کورٹ نے وامن راؤ جوڑے کے قتل کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کی تھیں۔

کانگریس کا فیصلہ اور سیاسی ردعمل

اب کانگریس حکومت نے کالیشورم کیس کو براہ راست سی بی آئی کے حوالے کرکے کے سی آر کے موقف کو الٹ دیا ہے۔ اس فیصلے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ کانگریس قائدین بشمول راہل گاندھی اکثر سی بی آئی اور ای ڈی کو بی جے پی کے سیاسی ہتھیار قرار دیتے رہے ہیں۔

جسٹس پی سی گھوش کمیشن، جس نے میدیگڈہ بیراج کے انہدام کی تحقیقات کی تھی، نے اپنی رپورٹ میں کے سی آر کو ڈیزائن اور تعمیری عمل میں مداخلت کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا۔ رپورٹ میں منصوبہ بندی، تعمیر اور منظوریوں میں بے قاعدگیوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ اب جبکہ کیس CBI Probe کرے گی ، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی بی آر ایس پر اپنے حملے مزید تیز کرے گی، جبکہ کانگریس خود کو بدعنوانی کے خلاف سخت قدم اٹھانے والی جماعت کے طور پر پیش کرے گی۔

انتخابی منظرنامہ

ریاست میں انتخابات سے قبل سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جارہا ہے۔ کانگریس اپنی دوبارہ کامیابی پر پُراعتماد دکھائی دے رہی ہے، جبکہ بی آر ایس اندرونی اختلافات اور منحرف ہونے والے ارکان کے باوجود واپسی کی امید کر رہی ہے۔ بی جے پی عوامی ناراضگی کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں حریفوں کے مقابلے میں اپنے اثرات بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سی بی آئی کی انٹری کو ریاستی سیاست میں ایک نیا موڑ تصور کیا جا رہا ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ کالیشورم انکوائری آنے والے انتخابات میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔