Read in English  
       
Jubilee Hills Demolitions

حیدرآباد ۔ بھارت راشٹرا سمیتی کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے غریب عوام کے خلاف Jubilee Hills Demolitions شروع کر دیا ہے۔ جوبلی ہلز کے ورکرس اجلاس سے خطاب میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے اتوار کے دن گجولارامارم میں مکانات منہدم کر دیے، حالانکہ ہائی کورٹ نے پہلے ہی چھٹی کے دن انہدامی کارروائیوں سے روک دیا تھا۔

کے ٹی راما راؤ نے خبردار کیا کہ آئندہ بلڈوزر جوبلی ہلز کی بورا بنڈہ بستی تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس ایک طرف عوام سے ووٹ مانگتی ہے اور دوسری طرف انہی کے مکانات ڈھادیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بی آر ایس کارکن سردار کا مکان بھی منہدم کیا گیا جسے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ ان کے مطابق کانگریس حکومت محض دو سال میں ناکام فلم ثابت ہوئی ہے۔

حکومت پر جانبداری کے الزامات

بی آر ایس لیڈر نے کہا کہ بلڈوزر ہمیشہ کمزور طبقات کے گھروں پر چلائے جاتے ہیں، مگر طاقتور افراد کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے وزیر پونگو لیتی سرینواس ریڈی، ویویک اور کانگریس قائد کے وی پی رام چندر راؤ پر الزام لگایا کہ انہوں نے سرکاری اراضی اور جھیلوں جیسے عثمان ساگر و حمایت ساگر پر مکانات تعمیر کیے، لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں شہر کی ترقی کے لیے 42 فلائی اوور تعمیر ہوئے، لیکن کانگریس دور میں ترقی کی رفتار رک گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی نے کانگریس کا پرچم لہرایا مگر بی جے پی کا ایجنڈا اپنا لیا۔

کے ٹی آر نے کہا کہ بی جے پی جہاں دوسری ریاستوں میں بلڈوزر کی مخالفت کرتی ہے، وہیں حیدرآباد میں کانگریس کو اس کے استعمال پر اکسا رہی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی اور کانگریس میں کوئی فرق نہیں ہے۔

کے ٹی راما راؤ نے یہ بھی کہا کہ دونوں جماعتیں عوام کو ہندو اور مسلمان میں بانٹ رہی ہیں، جبکہ کے چندر شیکھر راؤ کے دس سالہ دور میں کوئی فرقہ وارانہ فساد پیش نہیں آیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حکومت نے ریاست کی معیشت پر منفی اثر ڈالا ہے اور عوامی ناراضگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

Jubilee Hills Demolitions کا ذکر کرنے کے بعد انہوں نے کارکنوں کو یاد دلایا کہ گزشتہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں بی آر ایس کو جوبلی ہلز سے 4,700 ووٹوں کی اکثریت ملی تھی، جبکہ اس بار یہ مارجن 10,000 سے زیادہ ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے انتباہ دیا کہ کانگریس مستقبل میں حیدرآباد میں مفت پینے کا پانی بھی روک سکتی ہے۔