Read in English  
       
Irrigation Crisis

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے منگل کے روز وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر آبی نظم و نسق کے بارے میں کوئی فہم نہ رکھنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے آبپاشی وزرا سنگین مسائل پر خطرناک حد تک لاعلم ہیں۔ ان کے مطابق ریاست میں آبپاشی اور حکمرانی سے متعلق بنیادی سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نلگنڈہ میں نومنتخب سرپنچوں، ڈپٹی سرپنچوں اور وارڈ ممبران کی تقریبِ تہنیت سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے اٹھائے گئے اہم سوالات کا جواب دینے کے بجائے کانگریس حکومت توجہ بٹانے والی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پاس داخلہ کی وزارت بھی ہے اور حکومت کی سربراہی بھی، اگر ان میں ہمت ہے تو وہ میڈیا کے سامنے آ کر واضح کریں کہ کون سے مقدمات درج کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق پس پردہ کہانیاں اور نامعلوم ذرائع سے خبریں کمزوری کی علامت ہیں۔

آبپاشی منصوبوں پر رکاوٹ | Irrigation Crisis

کے ٹی راما راؤ نے دریائے کرشنا کے پانی کے تنازع پر کانگریس حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت تلنگانہ کے حصے کے پانی کے تحفظ میں ناکام رہی ہے اور پالمورو رنگا ریڈی لفٹ آبپاشی منصوبے کو جان بوجھ کر روکا جا رہا ہے۔ ان کے بقول بی آر ایس حکومت نے منصوبے کا 90 فیصد کام مکمل کیا تھا، مگر کانگریس نے دو برس ضائع کر کے باقی 10 فیصد بھی پورا نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹس جمع نہ کرانا اور منصوبے کو کمزور کرنے کی کوشش کسانوں کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق وزرا کے حالیہ بیانات، جن میں تیاری نہ ہونے کا اعتراف کیا گیا، اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ کسانوں اور آبی مسائل کی سنگینی سے کٹے ہوئے ہیں۔

Irrigation Crisis

کسانوں کے نام پر سیاست | Irrigation Crisis

کے ٹی راما راؤ نے کانگریس کو چیلنج دیا کہ اگر اسے کسانوں کی حمایت پر یقین ہے تو کوآپریٹو سوسائٹیوں کے انتخابات کرائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت خوف کے باعث انتخابات سے گریز کر رہی ہے اور نامزد ارکان کے ذریعے نظام چلا رہی ہے۔ ان کے مطابق انتخابات ہوئے تو کسان واضح پیغام دیں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے کسانوں کے لیے وعدہ کی گئی اسکیموں، جن میں کرایہ دار کسانوں کے لیے ریتھو بندھو اور زرعی مزدوروں کے لیے مالی امداد شامل ہے، کو نظرانداز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹے مقدمات کی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

آخر میں انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے 420 وعدوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں۔ ان کے بقول بی آر ایس دھمکیوں یا دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی اور تلنگانہ کے کسانوں کو انصاف دلانے تک آواز بلند کرتی رہے گی۔