Read in English  
       
Indian Economy

حیدرآباد: اسٹیٹ بینک آف انڈیا ریسرچ کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت 2028 تک دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک 2030 تک اپر مڈل انکم کیٹیگری میں شامل ہو جائے گا، جو اقتصادی سفر میں ایک اہم سنگ میل ہوگا۔

فی الوقت بھارت لوئر مڈل انکم ملک کے درجے میں شامل ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ 2030 تک فی کس آمدنی 4,000 امریکی ڈالر کی حد عبور کر لے گی، جو تقریباً 3.3 لاکھ روپے فی فرد کے برابر ہوگی۔ اس سطح پر پہنچنے کے بعد بھارت چین اور انڈونیشیا جیسے ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا۔

آمدنی اور ترقی کے اہداف | Indian Economy

اسٹیٹ بینک آف انڈیا ریسرچ کی اقتصادی پیش گوئی میں کہا گیا ہے کہ بھارت 2030 تک اپر مڈل انکم ملک بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فی کس آمدنی میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ معیشت مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔

ورلڈ بینک کے معیار کے مطابق کسی ملک کو اپر مڈل انکم کیٹیگری میں شامل ہونے کے لیے فی کس مجموعی قومی آمدنی تقریباً 4,500 امریکی ڈالر ہونی چاہیے۔ رپورٹ میں اعتماد ظاہر کیا گیا ہے کہ بھارت آئندہ چند برسوں میں اس معیار کے قریب یا اس سے آگے نکل سکتا ہے۔

مجموعی پیداوار میں تیز رفتار اضافہ | Indian Economy

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی مجموعی گھریلو پیداوار 2027-28 کے مالی سال تک 5 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے بعد معیشت کے دوگنا ہونے کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں 2035-36 تک جی ڈی پی 10 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق صنعتی توسیع، خدمات کے شعبے میں ترقی اور گھریلو کھپت میں اضافے نے اس رفتار کو ممکن بنایا ہے۔ ان عوامل کی بدولت بھارت عالمی معیشت میں ایک زیادہ بااثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آتا جا رہا ہے۔