Read in English  
       
Urban Reforms

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے اپنی شہری حکمت عملی کے تحت جی ایچ ایم سی کی تنظیم نو کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت شہری ادارے کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ ملو بھٹی وکرمارکا نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے انتظامی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ مزید برآں عوامی خدمات کی فراہمی کو تیز اور مؤثر بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

پس منظر میں حکومت نے بتایا کہ اس تنظیم نو کے تحت گریٹر حیدرآباد، سائبر آباد اور ملکاجگری کے نام سے نئے کارپوریشنز قائم کیے جائیں گے۔ تاہم اس تقسیم کا مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے تاکہ جوابدہی میں اضافہ ہو سکے۔ اسی دوران متوازن شہری ترقی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

حکومت نے اس کے ساتھ بھارت فیوچر سٹی منصوبہ بھی پیش کیا، جو 30,000 ایکڑ پر مشتمل ایک جدید شہر ہوگا۔ مزید یہ کہ اس شہر میں جدید ٹرانسپورٹ نظام اور ماحول دوست توانائی کے حل شامل ہوں گے۔ اس منصوبے کو مستقبل کے معاشی مرکز کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق اس نئے شہر کے ذریعے عالمی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا اور طویل مدتی شہری ترقی کو فروغ ملے گا۔ اسی دوران شاہراہوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو بہتر بنا کر رابطہ کاری کو مضبوط کیا جائے گا۔

پائیدار ترقی اور شہری منصوبہ بندی | Urban Reforms

جی ایچ ایم سی کی تنظیم نو کو پائیدار ترقی کے اہداف سے بھی جوڑا گیا ہے۔ حکومت زیر زمین کیبلنگ، برقی گاڑیوں کے فروغ اور آلودگی میں کمی کے اقدامات کر رہی ہے۔ مزید برآں ان اقدامات سے شہری معیار زندگی بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکام نے کہا کہ حیدرآباد کو نیٹ زیرو شہر کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ ہے۔ اس کے لیے صاف توانائی اور ماحول دوست پالیسیوں کو ترجیح دی جائے گی۔ تاہم تمام بڑے منصوبوں میں پائیداری کو شامل کیا جائے گا۔

معیشت، آئی ٹی اور علاقائی توازن | Urban Reforms

حیدرآباد کی ترقی میں آئی ٹی شعبہ بدستور اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں عالمی کمپنیوں کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت مغربی حیدرآباد سے باہر بھی آئی ٹی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

گرڈ پالیسی کے تحت مختلف علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو تقسیم کیا جائے گا تاکہ شہری دباؤ کم ہو۔ اسی کے ساتھ صنعتی راہداریوں اور لاجسٹک حبز کی ترقی بھی جاری ہے، جو روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔

وزیر خزانہ ملو بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ یہ اصلاحات حیدرآباد کو عالمی معیار کا شہر بنانے میں مدد دیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر حکمرانی اور سرمایہ کاری کے ذریعے طویل مدتی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ شہری منصوبہ بندی ایک جامع وژن پیش کرتی ہے، جس میں اصلاحات، انفراسٹرکچر اور پائیدار ترقی کو یکجا کیا گیا ہے۔ مزید برآں یہ اقدامات مستقبل میں حیدرآباد کی ترقی کی سمت کو تبدیل کر سکتے ہیں۔