Read in English  
       
Ramadan Orders

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کا دارالحکومت حیدرآباد اپنی قدیم تہذیب، نوابی روایات اور منفرد پکوانوں کے باعث عالمی سطح پر ایک نمایاں شناخت رکھتا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران یہ شہر نہ صرف مذہبی سرگرمیوں بلکہ ثقافتی اور معاشی سرگرمیوں کا بھی مرکز بن جاتا ہے۔ سحر اور افطار کے اوقات میں شہر کے مختلف علاقوں سے لذیذ پکوانوں کی خوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فون کے بڑھتے استعمال نے اس روایتی ماحول کو ایک نئی جہت دی ہے۔ فوڈ ڈیلیوری ایپس جیسے سوئیگی اور زومیٹو اب شہری زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہیں، جبکہ رمضان کا مہینہ ان پلیٹ فارمز کے لیے سال کا سب سے مصروف سیزن ثابت ہو رہا ہے۔

رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی چارمینار، پتھر گٹی، ملے پلی اور مغل پورہ جیسے علاقوں میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اسی طرح ہائی ٹیک سٹی، بنجارہ ہلز اور گچی باؤلی جیسے جدید علاقوں میں بھی افطار اور سحر کے لیے آن لائن آرڈرز میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

حلیم اور بریانی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ | Ramadan Orders

رمضان کے دوران حیدرآباد میں آن لائن فوڈ آرڈرز کی تعداد عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ سوئیگی کی ایک رپورٹ کے مطابق رمضان کے دوران حلیم کے آرڈرز میں 1454.88 فیصد کا حیرت انگیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ رمضان 2024 میں حیدرآباد میں 10 لاکھ سے زائد بریانی پلیٹس آن لائن آرڈر کی گئیں۔ یہ رجحان شہر میں بریانی اور حلیم کی مقبولیت اور رمضان کے ثقافتی اثرات کو واضح کرتا ہے۔

Ramadan Orders

رمضان میں فوڈ ڈیلیوری کا نظام تین اہم اوقات میں سب سے زیادہ مصروف ہوتا ہے۔ پہلا مرحلہ افطار سے قبل شام 4:30 سے 6:30 بجے تک ہوتا ہے جب حلیم، سموسے، دہی بڑے اور لقمی کے آرڈرز کی بھرمار ہوتی ہے۔

دوسرا مصروف وقت رات 10:00 سے 12:30 بجے تک ہوتا ہے جب تراویح کے بعد بریانی، نہاری اور کبابوں کے آرڈرز میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح سحر کے وقت رات 2:00 سے صبح 4:00 بجے تک بھی آرڈرز کی ایک نئی لہر سامنے آتی ہے۔

صارفین کے رویوں اور ڈیلیوری نظام میں تبدیلی | Ramadan Orders

رمضان کے دوران صارفین کے خریداری کے انداز میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی جاتی ہے۔ چونکہ افطار اور سحر زیادہ تر اجتماعی سرگرمیاں ہوتی ہیں اس لیے فیملی اور گروپ آرڈرز میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

ریسٹورنٹس نے اس رجحان کو دیکھتے ہوئے افطار باکس اور فیملی کومبو پیکس متعارف کروائے ہیں جن میں حلیم، کھجور، پھل اور دیگر اسنیکس شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح کارپوریٹ دفاتر میں بھی افطار پارٹیوں کے لیے بڑے پیمانے پر آن لائن آرڈرز دیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ کوئیک کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے کھجوروں، خشک میوہ جات اور مشروبات کی ترسیل میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رمضان 2024 میں حیدرآباد میں انسٹا مارٹ کے ذریعے تقریباً 5 لاکھ کھجوروں اور خشک میوہ جات کے آرڈرز ریکارڈ کیے گئے۔

دوسری جانب صحت بخش غذا کی طرف رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ ہائی پروٹین ڈائٹ، فروٹ سلاد اور کم تیل والے کھانوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جس سے صارفین کی بدلتی ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے۔

فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز کے لیے رمضان معاشی لحاظ سے انتہائی فائدہ مند سیزن بن چکا ہے۔ بھارت میں آن لائن فوڈ ڈیلیوری کی صنعت مالی سال 2024-25 میں ₹1.2 لاکھ کروڑ کی مجموعی پیداوار تک پہنچ گئی ہے جس میں رمضان جیسے تہوار اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

صارفین کے رویوں اور ڈیلیوری نظام میں تبدیلی | Ramadan Orders

تاہم اس کے ساتھ کئی چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔ چارمینار، ٹولی چوکی اور ملے پلی جیسے علاقوں میں افطار کے وقت شدید ٹریفک ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح تیز رفتار ڈیلیوری کے دباؤ کے باعث سڑک حادثات اور حفاظتی خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیلیوری ایپس کو پری آرڈرنگ سسٹم کو فروغ دینا چاہیے تاکہ آخری وقت کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ اسی طرح ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے ہائیڈریشن اسٹیشنز اور حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

مجموعی طور پر حیدرآباد میں رمضان المبارک کے دوران آن لائن فوڈ ڈیلیوری کا بڑھتا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ ٹیکنالوجی نے شہر کی روایتی خوراکی ثقافت کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ مستقبل میں کوئیک کامرس اور نئی ڈیلیوری ٹیکنالوجیز اس شعبے کو مزید تبدیل کر سکتی ہیں۔

اہم نکات برائے عمل درآمد:
  •  ریسٹورنٹس “کلاؤڈ کچن” ماڈل کو اپنا کر گنجائش بڑھائیں۔
  •  ڈیلیوری ایپس ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے لائف انشورنس اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔
  •  ٹریفک پولیس اور ڈیلیوری ایپس کے درمیان ہم آہنگی کے لیے ایک خصوصی ’رمضان ٹریفک ٹاسک فورس‘ بنائی جائے۔
  •  صارفین افطار سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے آرڈر دینے کی عادت ڈالیں تاکہ ڈیلیوری رائیڈرز کو سڑکوں پر حادثات سے بچایا جا سکے۔