Read in English  
       
Hyderabad Rain

حیدرآباد: جمعرات کی شام حیدرآباد میں ہونے والی ریکارڈ بارش نے شہر کی مکمل نقل و حرکت کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ کئی اہم سڑکیں زیر آب آ گئیں، ٹریفک کئی کلومیٹر تک جام ہو گیا، اور متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

شام تقریباً 6:45 بجے شروع ہونے والی موسلا دھار Hyderabad Rainنے صرف ایک گھنٹے میں سیرلنگم پلی میں 12 سینٹی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ خیریت آباد میں 11.1 سینٹی میٹر اور سرور نگر میں 10.6 سینٹی میٹر بارش ہوئی۔ اپّل، دلسکھ نگر، بندلہ گوڑہ، ملک پیٹ اور جوبلی ہلز جیسے علاقوں میں بھی 7 سینٹی میٹر سے زائد بارش درج کی گئی۔

شہر بھر میں پانی پانی، محکمہ موسمیات کی جانب سے اورنج الرٹ جاری

محکمہ موسمیات ہند کے مطابق شہر میں رات دیر گئے تک “اورنج الرٹ” نافذ رہا اور مزید شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی۔ طوفانی ہواؤں، بجلی چمکنے اور اچانک سیلاب کی صورتحال نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی۔

مہدی پٹنم سے گچی باؤلی، پنجہ گٹہ سے بیگم پیٹ، اور ملک پیٹ سے حیات نگر تک کئی مرکزی راستے پانی میں ڈوب گئے۔ جوبلی ہلز، کونڈا پور، بایوڈائیورسٹی جنکشن اور ایل بی نگر میں شدید ٹریفک جام کی شکایات موصول ہوئیں۔

پرانے شہر کے نشیبی علاقوں جیسے سنتوش نگر، چندرائن گٹہ، کنچن باغ اور چھتری ناکہ میں گھروں میں پانی داخل ہو گیا۔ چھتری ناکہ کے راجنا بوی، شیواجی نگر اور شیوا گنگا نگر میں نالوں کے ابلنے سے سڑکیں ندیوں میں تبدیل ہو گئیں۔

جی ایچ ایم سی، ایس ڈی آر ایف، اور حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر مختلف علاقوں میں متحرک ہو گئیں تاکہ جمع پانی نکالا جا سکے اور بجلی کی بحالی کی جائے۔

کوکٹ پلی، میاں پور، ایس آر نگر، امیر پیٹ اور خیریت آباد جیسے بڑے چوراہوں پر ٹریفک مکمل طور پر جام ہو گیا۔ دفتر سے گھروں کو لوٹنے والے افراد شدید پریشانی کا شکار رہے جبکہ کئی جگہوں پر پیدل چلنے والوں کو گھٹنوں تک پانی سے گزرنا پڑا۔

اپّل، ناگول، بنجارہ ہلز اور کونڈا پور کے رہائشیوں نے بجلی بند ہونے اور بیسمنٹ میں پانی بھرنے کی شکایت کی۔ بارش آدھی رات تک جاری رہی اور جی ایچ ایم سی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور احتیاط برتیں۔