Read in English  
       
Public Transport

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے Public transportکے کم ہوتے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے حالانکہ آر ٹی سی، میٹرو اور ایم ایم ٹی ایس میں بھاری سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ کنسلٹنسی فرم لیا ایسوسی ایٹس کی رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں عوامی ٹرانسپورٹ کا حصہ جو 2011 میں 42 فیصد تھا، 2024 میں گھٹ کر صرف 25 فیصد رہ گیا ہے۔

نجی گاڑیوں کا بڑھا استعمال

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نجی گاڑیوں کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ 2011 میں جہاں کاروں کی تعداد 4 لاکھ تھی، وہ 2024 میں بڑھ کر 24.3 لاکھ ہوگئی۔ اسی طرح دو پہیہ گاڑیاں 33 لاکھ سے بڑھ کر 69 لاکھ تک پہنچ گئیں۔ عہدیداروں کے مطابق نجی گاڑیوں کی اس بے تحاشہ بڑھوتری نے شہر میں ٹریفک جام اور فضائی آلودگی کے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

وزیراعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ حیدرآباد کی موجودہ پبلک ٹرانسپورٹ پر تفصیلی رپورٹ تیار کرے۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ آیا مہالکشمی جیسی اسکیموں سے بسوں کے مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے یا نہیں اور نجی گاڑیوں سے عوام کو عوامی ٹرانسپورٹ کی طرف راغب کرنے کے لئے مزید کیا اقدامات ضروری ہیں۔

ایم ایم ٹی ایس کی صورتحال زیادہ خراب!

اعداد و شمار کے مطابق گریٹر حیدرآباد میں اب تقریباً 70 فیصد مسافر نجی گاڑیوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ کاروں کا حصہ 2011 میں 4 فیصد تھا جو 2024 میں بڑھ کر 16 فیصد ہوگیا، جبکہ دو پہیہ گاڑیوں کا حصہ 38 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک جا پہنچا۔ بس سروس کے مسافر تعداد کے لحاظ سے تو 38 لاکھ پر برقرار رہی، مگر اس کا حصہ مجموعی سفر میں 42 فیصد سے گھٹ کر 25 فیصد رہ گیا۔

ایم ایم ٹی ایس کی صورت حال سب سے زیادہ خراب رہی، جو 2011 میں روزانہ 3.5 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کر رہی تھی، اب صرف 3,000 افراد تک محدود ہوگئی ہے۔ میٹرو ریل اس وقت یومیہ تقریباً 5 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کر رہی ہے، جو صرف 3 فیصد شیئر کے برابر ہے۔ آٹو کا حصہ 7 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد ہوگیا جبکہ ٹیکسی کا معمولی اضافہ 5 فیصد سے 6 فیصد رہا۔

محکمہ ٹرانسپورٹ نے اعتراف کیا کہ حیدرآباد میں کم از کم 6,000 شہری بسوں کی ضرورت ہے مگر فی الحال صرف 3,000 بسیں چل رہی ہیں۔ سہولت کی کمی اور بسوں میں بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے عوام دو پہیہ گاڑیوں کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں۔ اسی لئے آر ٹی سی نے فیصلہ کیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک 2,000 الیکٹرک بسیں شامل کی جائیں گی اور خدمات کو مضافاتی کالونیوں تک بڑھایا جائے گا۔

حکومت کی منصوبہ بندی میں میٹرو کی توسیع بھی شامل ہے۔ مجوزہ راستوں میں ایم جی بی ایس تا چندرائن گٹہ، ناگول تا شمس آباد ایئرپورٹ، جے بی ایس تا میڑچل، جے بی ایس تا شاہ میر پیٹ، ناگول تا ایل بی نگر اور میاں پور تا اسناپور شامل ہیں۔ حکومت کا ہدف ہے کہ مرکز سے فیز ٹو کی منظوری ملنے کے بعد میٹرو کا حصہ 10 فیصد سے زیادہ تک پہنچایا جائے۔

رپورٹ میں میٹرو اسٹیشنوں پر ناکافی پارکنگ اور کمزور فیڈر بس سروسز کو بھی اجاگر کیا گیا۔ آخری میل کنکشن کے فقدان کی وجہ سے بہت سے مسافر میٹرو کی موجودگی کے باوجود نجی گاڑیوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ امکان ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ آئندہ چند دنوں میں حکومت کو تفصیلی تجاویز پیش کرے گا۔