Read in English  
       
Metro Rail

حیدرآباد: پرانے شہر حیدرآباد میں Metro Railکاریڈور کا کام تیزی سے جاری ہے، اور نئی ڈیزائن تبدیلیوں کے باعث متاثرہ جائیدادوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ حیدرآباد ایرو میٹرو لمیٹڈ (HAML) کے منیجنگ ڈائریکٹر این وی ایس ریڈی نے بتایا کہ ایم جی بی ایس سے چندرائن گٹہ کے درمیان کے حصے میں پہلے تقریباً 1,100 جائیدادیں متاثر ہونے کا امکان تھا، جو اب گھٹ کر تقریباً 900 رہ گئی ہیں۔

اب تک 380 جائیدادوں کی انہدامی کارروائی مکمل ہوچکی ہے، جب کہ 412 جائیدادوں کے لیے معاوضہ بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ متاثرین کو اب تک تقریباً 360 کروڑ روپئے معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔

این وی ایس ریڈی نے بتایا کہ پرانے شہر میں گنجان آبادی، اوور ہیڈ برقی تاریں، اور زیر زمین پائپ لائنیں زمین کے حصول اور انہدام میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اسی لیے یہ کام زیادہ تر رات کے وقت انجام دیا جا رہا ہے تاکہ عوامی تکلیف کم ہو۔

پلروں کی نشاندہی شروع ہو چکی ہے، جنہیں ہر 25 میٹر کے وقفے پر نصب کیا جائے گا۔ مٹی کی برداشت کی صلاحیت جانچنے کے لیے سائل ٹیسٹ بھی کیے جائیں گے۔ ڈی جی پی ایس سروے کی مدد سے پلروں اور اسٹیشنوں کی حتمی جگہوں کا تعین heritage مقامات سے بچتے ہوئے کر لیا گیا ہے۔ تعمیراتی رہنمائی کے لیے ٹیمپریری بینچ مارکس بھی قائم کیے گئے ہیں۔

ضروری سہولیات کی منتقلی کا کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ نکاسی آب، پینے کے پانی، اور برقی تاروں کی منتقلی جاری ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی ہدایت پر تمام برقی لائنیں زیر زمین کی جائیں گی۔ واٹر بورڈ، جی ایچ ایم سی اور ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل جیسی ایجنسیاں اپنے بجٹ تخمینے جلد پیش کریں گی۔

میٹرو ٹیم اور دیگر محکمے قریبی رابطے میں کام کر رہے ہیں تاکہ منصوبے میں تاخیر نہ ہو اور عوامی مشکلات کم ہوں۔ این وی ایس ریڈی روزانہ کی بنیاد پر کام کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔