Read in English  
       
Mega City

حیدرآباد: حیدرآباد باضابطہ طور پر میگا سٹی بن گیا ہے، جہاں 27 بلدیات کے انضمام کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی حدود میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ یہ بات جی ایچ ایم سی کے کمشنر آر وی کرنن نے کہی، جنہوں نے شہر کی انتظامی توسیع کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

جمعہ کو راجندر نگر اور گولکنڈہ زونل کمشنر دفاتر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمشنر نے بتایا کہ انضمام کے بعد جی ایچ ایم سی کا دائرہ 650 مربع کلومیٹر سے بڑھ کر 2,053 مربع کلومیٹر تک پھیل گیا ہے۔ اسی تقریب میں انوراگ جینتی نے راجندر نگر کے زونل کمشنر اور جی مکندا ریڈی نے گولکنڈہ کے زونل کمشنر کی حیثیت سے چارج سنبھالا۔

کمشنر کے مطابق توسیع شدہ انتظامی حدود میں مؤثر نظم و نسق کے لیے ریاستی حکومت نے وارڈز کی تعداد 150 سے بڑھا کر 300 کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی زونز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 12 اور سرکلز 30 سے بڑھا کر 60 کر دیے گئے ہیں۔

انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی | Mega City

کمشنر نے بتایا کہ اپل، قطب اللہ پور، ملکاجگیری، شمس آباد، گولکنڈہ اور راجندر نگر میں نئے زونز قائم کیے گئے ہیں۔ ان نئے زونز کے قیام کا مقصد شہری خدمات کو عوام کے قریب لانا اور شکایات کے فوری ازالے کو ممکن بنانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اضافی زونل اور سرکل دفاتر کے قیام سے نہ صرف شہری سہولیات تک رسائی بہتر ہوگی بلکہ ترقیاتی کاموں کی رفتار بھی تیز ہوگی۔ اس انتظامی ڈھانچے سے بڑے شہر میں تال میل بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

ترقیاتی کاموں کو رفتار | Mega City

کمشنر آر وی کرنن کے مطابق نئی انتظامی تقسیم سے سڑکوں، صفائی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبوں پر عمل درآمد میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میگا سٹی کے طور پر حیدرآباد کی شناخت اب شہری ترقی کے نئے مرحلے کی عکاس ہے۔

حکام نے امید ظاہر کی کہ توسیع شدہ جی ایچ ایم سی ڈھانچے کے ذریعے شہری مسائل کے حل میں شفافیت بڑھے گی اور شہر بھر میں یکساں ترقی ممکن ہو سکے گی۔