Read in English  
       
Job Fraud

حیدرآباد: ملازمت کی ضمانت کے نام پر ایک سنگین سائبر فراڈ کا انکشاف اس وقت ہوا جب مولا علی کے ایک بے روزگار نوجوان سے 15 لاکھ روپئے کی دھوکہ دہی کی گئی۔ متاثرہ شخص کو ستاروں کے ذریعے علاج اور جعلی بھرتی کالز کے ذریعے نوکری دلانے کا جھانسہ دیا گیا۔ بعد میں رقم وصول کر کے ملزمان غائب ہو گئے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ نوجوان کو انسٹاگرام پر سائی چرن 12 M اور ایسٹرو چرن نامی اکاؤنٹس سے پیغامات موصول ہوئے۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے زائچہ کا تجزیہ پیش کیا گیا۔ بعد ازاں فون نمبر کا تبادلہ ہوا اور بات چیت واٹس ایپ پر منتقل ہو گئی۔

گفتگو کے دوران سائچرن نے متاثرہ شخص کو قائل کیا کہ اس کے زائچے میں موجود نقائص ملازمت میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر 50,000 روپئے وصول کیے گئے اور یقین دہانی کرائی گئی کہ فوری نوکری مل جائے گی۔ اس کے بعد ایک اور نمبر دیا گیا جس پر فون کرنے کو کہا گیا۔

جعلی ایچ آر کالز | Job Fraud

فون پر بات کرنے والے شخص نے خود کو ایچ آر مینیجر بتایا اور ریزیومے طلب کیا۔ تقریباً دس دن بعد کہا گیا کہ ریزیومے پر کارروائی جاری ہے، تاہم اچھی نوکری کے لیے 15 لاکھ روپئے تک خرچ آئیں گے۔ یقین دہانیوں پر بھروسا کرتے ہوئے متاثرہ شخص نے قسطوں میں رقم منتقل کر دی۔

اس دوران جعلی ایچ آر اور ٹیکنیکل انٹرویوز بھی فون پر لیے گئے۔ متاثرہ شخص کو بتایا گیا کہ اسے ایک معروف آئی ٹی کمپنی کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ سے کال آئے گی۔ بعد میں ایک خاتون نے خود کو ایچ آر نمائندہ ظاہر کیا اور ذاتی تفصیلات حاصل کیں۔

انہوں نے یقین دلایا کہ جلد آفر لیٹر جاری ہو جائے گا، مگر مسلسل تاخیر ہوتی رہی۔ جب متاثرہ شخص نے دوبارہ سائی چرن سے رابطہ کیا تو اسے براہ راست ایچ آر ٹیم سے بات کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

رقم واپسی کا مطالبہ | Job Fraud

حالیہ دنوں میں متاثرہ شخص نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اب وہ نوکری نہیں چاہتا۔ ابتدا میں واپسی کی یقین دہانی کرائی گئی، تاہم بعد میں تمام فون بند کر دیے گئے۔ تب متاثرہ شخص کو دھوکہ دہی کا احساس ہوا۔

بعد ازاں اس نے رچہ کونڈہ سائبر کرائم پولیس سے رجوع کیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوکری کی ضمانت دینے والوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی رقم کی ادائیگی سے قبل مکمل تصدیق کریں۔