Read in English  
       
Unlicensed Hospitals

حیدرآباد: ضلع کلکٹر ہری چندنا دساری نے منگل کے روز محکمہ صحت کے تحت منعقدہ ڈسٹرکٹ رجسٹرنگ اتھارٹی کمیٹی کے اجلاس میں طبی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ Unlicensed Hospitalsکی نشاندہی کر کے فوری قانونی کارروائی کریں۔

کلکٹریٹ میں منعقدہ اجلاس میں کلکٹر نے افسران کو ہدایت دی کہ کلینیکل اسٹیبلشمنٹس ایکٹ 2010 اور رجسٹریشن و ریگولیشن رولز 2022 کے تحت تمام اسپتالوں کی رجسٹریشن سے قبل مکمل دستاویزات کی جانچ ضروری ہے۔

AYUSH ڈاکٹروں کی غیر قانونی طریقہ علاج پر سخت کارروائی کا حکم

کلکٹر ہری چندنا نے تشویش ظاہر کی کہ بعض AYUSH پریکٹیشنرز غیر قانونی طور پر ایلوپیتھک علاج فراہم کر رہے ہیں، جو قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے ایسے اداروں کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی ہدایت دی۔

انہوں نے کہا کہ سینئر پبلک ہیلتھ آفیسرز (SPHOs) کو چاہیے کہ وہ پولیس کے اشتراک سے ایسے غیر لائسنس یافتہ اسپتالوں کے خلاف مقدمات درج کریں۔

374 اسپتالوں نے مستقل رجسٹریشن کیلئے درخواست دی

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ضلع میں 374 نجی اسپتالوں نے مستقل رجسٹریشن یا تجدید کیلئے درخواستیں دی ہیں، جن میں سے 322 درخواستیں SPHOs کے ذریعہ منظوری کے لیے بھیجی گئی ہیں۔ کلکٹر نے ہدایت دی کہ پولیس اور دیگر محکمہ جاتی افسران پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم ان اسپتالوں کا دوبارہ معائنہ کرے اور ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے۔

کلکٹر نے معائنہ کے دوران استعمال ہونے والے چیک لسٹ کا جائزہ لیا اور پولیس عہدیداروں سے کہا کہ وہ ڈاکٹروں کی تعلیمی اسناد، لائسنس اور ان کے خلاف کسی بھی مجرمانہ یا قانونی مقدمہ کی تصدیق کو ترجیحی بنیاد پر مکمل کریں۔

اجلاس میں SPHO افسران کی جانب سے رجسٹرڈ اسپتالوں کی فہرست پیش کی گئی، جس پر کلکٹر نے تاکید کی کہ جہاں کہیں بھی خلاف ورزیاں پائی جائیں، وہاں جرمانے عائد کیے جائیں اور قانونی کارروائی کی جائے۔

اجلاس میں ایڈیشنل کلکٹر برائے بلدی ادارے کدری ونپالنی، ڈی سی پی ڈاکٹر لاونیا، ڈی ایم اینڈ ایچ او ڈاکٹر وینکٹ، ایڈیشنل ڈی ایم ایچ او ڈاکٹر جیا مالنی، ڈی ایم او رامولو، ڈپٹی ڈی ایم ایچ او انجیّا گوڑ، ڈی آئی او ڈاکٹر سریدھر اور دیگر عہدیدار شریک تھے۔