Read in English  
       
Water Conservation

حیدرآباد: حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے پیر کے روز 100 روزہ ایکشن پلان کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے آؤٹر رنگ روڈ تک زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے اقدامات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ایچ ایم ڈبلیو ایس ایس بی کے مطابق 200 اسکوائر یارڈ کے ہر مکان اور 300 اسکوائر یارڈ سے زائد تمام املاک میں مخصوص ڈھانچے نصب کرنا ضروری ہوگا۔ منیجنگ ڈائریکٹر کے اشوک ریڈی نے کہا کہ اس اقدام سے زیرِ زمین پانی بحال ہوگا اور ٹینکرز پر انحصار کم کیا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر شہر کے تمام مکانات میں یہ نظام قائم ہو جائے تو کرشنا فیز-4 منصوبے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ان کے مطابق یہ حکمتِ عملی قلیل مدتی فراہمی کے بجائے طویل مدتی آبی سلامتی پر مرکوز ہے۔

ٹینکر صارفین پر توجہ | Water Conservation

حکام نے اس مہم کے تحت ایسے گھروں کی نشاندہی کی جو ہر ماہ 20 سے زیادہ پانی کے ٹینکر بُک کراتے ہیں۔ واٹر بورڈ نے ایسے 16,000 گھروں کو نوٹس جاری کیے ہیں، جنہیں مطلوبہ انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق مزید 25,000 املاک کو آئندہ سال مارچ تک یہ نظام نصب کرنا ہوگا۔ 40,209 رہائشی عمارتوں کے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 22,825 میں یہ انتظام پہلے سے موجود ہے، جبکہ 17,384 عمارتوں میں اب تک یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔

مقامی اقدامات اور عوامی شمولیت | Water Conservation

پیر کے روز کے اشوک ریڈی نے حکام کے ساتھ مادھاپور کا دورہ کیا اور مقامی سطح پر پانی کے تحفظ سے متعلق سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کاکتیہ ہلز میں واقع 15 فلیٹس پر مشتمل ایک اپارٹمنٹ کی تعریف کی، جہاں انجیکشن بور ویل کے ذریعے پانی کے مسئلے پر قابو پایا گیا۔

انہوں نے اس کوشش کو عوامی شمولیت کی بہترین مثال قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات شہر میں زیرِ زمین پانی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔