Read in English  
       
Hanumakonda School Death

حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع ہنمکنڈہ میں جمعرات کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب نعیم نگر کے تیجسوی اسکول میں چوتھی جماعت کے طالب علم کی مشتبہ حالات میں موت واقع ہو گئی۔ واقعے نے عوام اور طلبہ تنظیموں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔

متوفی طالب علم کی شناخت 9 سالہ بنوتھ سرجیت پریم کے طور پر کی گئی ہے، جو گنڈلا سنگارم کا رہائشی تھا۔ اسکول عملے کے مطابق وہ اچانک گر پڑا، جس کے بعد اسے فوری طور پر قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے برین ڈید قرار دیا۔

والدین کا الزام، ’’بیٹے کو مارا گیا‘‘ | Hanumakonda School Death

طالب علم کے والدین بنوتھ سجاتھا اور رمیش نے اسکول انتظامیہ پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا مکمل طور پر صحت مند تھا اور ممکنہ طور پر اسکول عملے کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوا۔

واقعے کے بعد بچے کے رشتہ داروں اور طلبہ تنظیموں نے اسکول کے سامنے دھرنا دیا اور اسکول انتظامیہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کے لیے 50 لاکھ روپئے ایکس گریشیا معاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

اسکول بند، ہنگامہ آرائی اور پتھراؤ | Hanumakonda School Death

صورتحال اُس وقت کشیدہ ہو گئی جب اسکول انتظامیہ نے احاطہ بند کر کے وہاں سے فرار اختیار کر لیا۔ مشتعل ہجوم نے اسکول کے سائن بورڈ پر پتھراؤ کیا۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پایا۔ اے سی پی نرسنگھ راؤ کی قیادت میں پولیس نے اسکول کے اطراف سیکیورٹی بڑھا دی تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

رشتہ داروں نے یہ بھی بتایا کہ اسی اسکول میں 11 ستمبر کو ایک اور طالب علم جینت وردھن کی بھی موت واقع ہوئی تھی۔ انہوں نے تحقیقات مکمل کر کے اسکول کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔