Read in English  
       
Farmer Outreach

حیدرآباد: تلنگانہ ایگریکلچر اینڈ فارمرز ویلفیئر کمیشن نے ریاستی حکومت سے آدرش رعیتو نظام کو دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نظام کی بحالی سے سرکاری منصوبوں اور فلاحی اسکیموں کی رسائی کسانوں تک مزید مؤثر انداز میں ممکن ہو سکے گی۔

کمیشن کے مطابق آدرش رعیتو نظام گاؤں کی سطح پر تال میل کو مضبوط بناتا ہے اور کسانوں اور سرکاری افسران کے درمیان رابطے کو ہموار کرتا ہے۔ اس سے زرعی اسکیموں کے نفاذ میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔

کسانوں سے براہِ راست رابطہ | Farmer Outreach

تلنگانہ ایگریکلچر اینڈ فارمرز ویلفیئر کمیشن کے چیئرمین ایم کودنڈا ریڈی نے کہا کہ آدرش رعیتو کسانوں اور حکومت کے درمیان براہِ راست پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نظام زرعی افسران کو اسکیموں کے عملی نفاذ میں بھی مدد فراہم کرے گا۔

انہوں نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا کو لکھے گئے خط میں وضاحت کی کہ ماضی میں آدرش رعیتو نظام نے فلاحی اسکیموں کو کسانوں تک پہنچانے میں مؤثر کردار ادا کیا تھا۔

مالی بوجھ نہیں | Farmer Outreach

کمیشن نے نشاندہی کی کہ ریاستی حکومت زرعی شعبے پر پہلے ہی ایک لاکھ کروڑ روپئے سے زائد خرچ کر چکی ہے۔ ایسے میں آدرش رعیتو نظام کی بحالی سے کسانوں کو سرکاری پالیسیوں اور اسکیموں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

ساتھ ہی کمیشن نے واضح کیا کہ اس نظام کو دوبارہ شروع کرنے سے حکومت پر کسی قسم کا اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔ کمیشن کے مطابق کسان تنظیمیں اور آدرش رعیتو بغیر کسی اعزازیہ کے خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔

کمیشن نے مطالبہ کیا کہ آنے والے اسمبلی اجلاس میں آدرش رعیتو نظام پر تفصیلی بحث کی جائے اور اس کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ بعد ازاں کودنڈا ریڈی نے کمیشن کے ارکان کے وی این ریڈی، گوپال ریڈی اور بھومی سنیل کے ساتھ سرکاری مشیروں ویم نریندر ریڈی اور سی ایم او کے سیکریٹری شیشادری سے سیکریٹریٹ میں ملاقات کی، جہاں اس تجویز کی تفصیل سے وضاحت کی گئی اور مطالبے کو دہرایا گیا۔