Read in English  
       
Extended Session

حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز اسمبلی نے پیر کے روز ایک غیر معمولی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ’کوشچن آوور‘اور ’زیرو آوور‘ کے لیے تقریباً آٹھ گھنٹے مختص کیے۔ اس طویل دورانیے کے باعث ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں سے متعلق مسائل تفصیل سے اٹھانے کا موقع ملا۔

صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک ایوان میں تفصیلی مباحث کی اجازت دی گئی۔ ارکان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی سوال گھنٹہ اور زیرو آوورکے لیے اتنا وقت مختص نہیں کیا گیا۔

زیرو آوورمیں غیر معمولی توسیع | Extended Session

عام طور پر ہر جماعت کے ایک یا دو ارکان کو ہی زیرو آوورمیں بولنے کا موقع ملتا ہے اور وقت بھی دو یا تین منٹ تک محدود رہتا ہے۔ تاہم پیر کے روز زیرو آوورتقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا اور وقت کی سخت پابندی نافذ نہیں کی گئی۔

اس کے نتیجے میں لگ بھگ 40 ارکان اسمبلی نے اپنے حلقوں کے مسائل ایوان کے سامنے رکھے۔ ارکان نے سڑکوں کی تعمیر، چیک ڈیم، ٹینکوں کی ترقی، تعلیمی اداروں اور طبی سہولتوں سے متعلق امور پر توجہ دلائی۔

مختلف شعبوں سے متعلق مسائل زیر بحث | Extended Session

ارکان اسمبلی نے بندروں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پیدا ہونے والی پریشانی اور زراعت سے متعلق مسائل بھی اٹھائے۔ کئی ارکان نے سابق حکومت کے دور میں نامکمل رہ جانے والے ترقیاتی کام مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس کے علاوہ بی سی طبقے کے لیے کمیونٹی عمارتوں کی تعمیر، نئے برقی سب اسٹیشنز کے قیام اور بجلی کی فراہمی سے جڑے مسائل پر بھی زور دیا گیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ طویل زیرو آوورنے انہیں عوامی مسائل براہ راست حکومت تک پہنچانے کا بہتر موقع فراہم کیا۔

اسی دوران حکومت کی جانب سے پیر کے روز ایچ آئی ایل ٹی پالیسی پر مختصر بحث طے تھی، جس کے لیے اعلیٰ قیادت نے تیاری کر رکھی تھی۔ تاہم کابینہ اور ارکان اسمبلی کے فیصلے کے بعد یہ بحث منگل تک ملتوی کر دی گئی۔

حکمران جماعت کے ارکان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باعث ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلتی رہی، جبکہ بعض ارکان نے رائے دی کہ اپوزیشن کی عدم موجودگی سے کارروائی کی گرمی میں کمی محسوس ہوئی۔