Read in English  
       
Eli Lilly Investment

حیدرآباد: عالمی شہرت یافتہ دواساز کمپنی ایلی للی نے تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں 9,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں نے پیر کے روز چیف منسٹر ریونت ریڈی سے آئی سی سی سی میں ملاقات کے دوران منصوبے کی تفصیلات پیش کیں۔
یہ سرمایہ کاری شہر میں ایک جدید مینوفیکچرنگ پلانٹ اور کوالٹی سینٹر کے قیام کے لیے کی جا رہی ہے۔

ریاستی حکومت کا ردعمل اور تعاون | Eli Lilly Investment

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کمپنی کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایلی للی کا اعتماد تلنگانہ کے صنعتی ماحول کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ایک ایسا عالمی شہر بن چکا ہے جو ہر صنعتی سرمایہ کار کو مکمل سہولت فراہم کرتا ہے۔
ریونت ریڈی نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ایلی للی کے منصوبے کے لیے تمام تر اجازتیں اور تعاون ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔

فارما انڈسٹری کا ارتقاء | Eli Lilly Investment

ریڈی نے یاد دلایا کہ 1965 میں اندرا گاندھی نے جب شہر میں آئی ڈی پی ایل قائم کیا تھا تو اسی وقت حیدرآباد نے بھارت کے فارما حب کی شکل اختیار کی۔
آج تقریباً 40 فیصد بلک ڈرگز حیدرآباد سے تیار ہو کر ملک کے مختلف حصوں میں جاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں تیار ہونے والی زیادہ تر کووِڈ-19 ویکسینز بھی اسی شہر سے پیدا ہوئیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت جلد ایک ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹر (ATC) بھی قائم کر رہی ہے تاکہ ریسرچ اور مینوفیکچرنگ کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

ہنرمندی اور مستقبل کے منصوبے | Eli Lilly Investment

ریونت ریڈی نے مزید بتایا کہ حکومت ایک نئی اسکل یونیورسٹی قائم کر رہی ہے جس کی قیادت معروف صنعت کار آنند مہندرا کریں گے۔
یہ ادارہ طلبہ کو انڈسٹری کے لیے تیار کرنے کے ساتھ فارما سیکٹر کے ماہرین کو بھی تربیت فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ کئی سینئر فارما پروفیشنلز پہلے ہی یونیورسٹی کے گورننگ بورڈ میں شامل ہیں۔
اس موقع پر وزیر شری دھر بابو، ایلی للی کے صدر پیٹرک جانسن، انڈیا صدر ونسلو ٹکر، اور اعلیٰ سرکاری عہدیدار موجود تھے۔

ایلی للی کی یہ سرمایہ کاری نہ صرف تلنگانہ بلکہ پورے بھارت کے دواساز شعبے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔
اس سے مقامی سطح پر روزگار، ریسرچ اور عالمی سطح کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔