Read in English  
       
Drunk Driving

حیدرآباد ۔ حیدرآباد ٹریفک پولیس نے 20 اور 21 مارچ کو جاری دو روزہ خصوصی مہم کے دوران نشے میں ڈرائیونگ کے 343 معاملات درج کیے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد سڑکوں پر بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کو روکنا اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔ مزید برآں، پولیس نے اس مہم کو شہر بھر میں مؤثر انداز میں نافذ کیا۔

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 287 خلاف ورزیاں دو پہیہ گاڑی چلانے والوں کی تھیں، جبکہ 24 کیسز تین پہیہ گاڑیوں سے متعلق تھے۔ اسی دوران، 32 معاملات چار پہیہ گاڑیوں اور دیگر گاڑیوں کے ڈرائیورز کے خلاف درج کیے گئے، جو اس مسئلے کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔

خون میں الکحل کی سطح کا تجزیہ | Drunk Driving

حکام نے تمام کیسز میں خون میں الکحل کی مقدار کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس کے مطابق 71 افراد کی سطح 30–50 کے درمیان تھی، جبکہ 143 افراد 51–100 کی حد میں پائے گئے۔ مزید یہ کہ 77 کیسز 101–150 کے زمرے میں شامل تھے، جو سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مزید برآں، 30 افراد میں الکحل کی سطح 151–200 کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح 14 کیسز 201–250 کی حد میں تھے، جبکہ 4 کیسز 251–300 اور مزید 4 کیسز 300 سے زائد کی سطح میں شامل تھے۔ یہ اعداد و شمار خطرناک ڈرائیونگ کے رجحان کو واضح کرتے ہیں۔

سڑکوں کی حفاظت کے لیے مسلسل اقدامات | Drunk Driving

پولیس حکام نے نشے میں ڈرائیونگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایسی مہمات آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ دریں اثنا، انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ٹریفک قوانین پر عمل کریں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

مزید یہ کہ حکام نے واضح کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف خلاف ورزیوں کو کم کرتی ہیں بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ لہٰذا، شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ محفوظ ڈرائیونگ کو یقینی بنائیں۔

آخر میں، پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی سڑک حادثات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اسی لیے، قوانین کی پاسداری اور شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔