Read in English  
       
Cyber Fraud

حیدرآباد: حیدرآباد سٹی سائبر کرائم پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ جعلی ای چالان ادائیگی لنکس کے ذریعے سائبر فراڈ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس کے مطابق دھوکہ باز ایس ایم ایس اور واٹس ایپ پر ایسے پیغامات بھیج رہے ہیں جن میں گاڑیوں کے زیر التوا ٹریفک چالان کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ان پیغامات میں فوری ادائیگی کے لیے لنکس بھی شامل ہوتے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ یہ جعلی لنکس دیکھنے میں سرکاری ویب سائٹس جیسے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کئی لوگ انہیں اصلی سمجھ لیتے ہیں۔ لنک پر کلک کرنے کے بعد صارفین سے گاڑی کا رجسٹریشن نمبر طلب کیا جاتا ہے اور اعتماد حاصل کرنے کے لیے ایک مخصوص رقم کا چالان دکھایا جاتا ہے۔

آن لائن دھوکہ | Cyber Fraud

حکام کے مطابق جیسے ہی متاثرہ افراد ادائیگی کی کوشش کرتے ہیں، ان کے موبائل فون میں میل ویئر داخل ہو جاتا ہے یا بینکنگ تفصیلات چوری ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں غیر مجاز لین دین اور موبائل ہیکنگ جیسے سنگین مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس نے کہا کہ ایسے واقعات میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ ذاتی معلومات بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

سائبر کرائم پولیس نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ٹریفک چالان کی ادائیگی صرف سرکاری پورٹلز کے ذریعے کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی سرکاری محکمہ واٹس ایپ یا ذاتی پیغامات کے ذریعے ادائیگی کے لنکس نہیں بھیجتا۔

حفاظتی ہدایات | Cyber Fraud

پولیس نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ کبھی بھی او ٹی پی، یو پی آئی پن یا کارڈ کی تفصیلات غیر مصدقہ ویب سائٹس پر درج نہ کریں۔ اس کے ساتھ ہی موبائل ایپس صرف سرکاری ایپ اسٹورز سے ڈاؤن لوڈ کرنے اور فون کو تازہ ترین سیکیورٹی اپ ڈیٹس اور اینٹی وائرس کے ساتھ محفوظ رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

کسی بھی سائبر فراڈ کی صورت میں متاثرہ افراد کو فوری طور پر موبائل ڈیٹا یا وائی فائی بند کرنے اور بینک سے رابطہ کر کے کارڈ یا لین دین بلاک کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق فوری اقدام نقصان کو کم کر سکتا ہے۔

سائبر فراڈ کا شکار ہونے والے افراد قومی ہیلپ لائن 1930 پر رابطہ کر سکتے ہیں یا ویب سائٹ cybercrime.gov.in پر شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قریبی سائبر کرائم پولیس اسٹیشن سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر پولیس وی اروند بابو نے کہا کہ بروقت اطلاع دینے سے نہ صرف مزید نقصان روکا جا سکتا ہے بلکہ دھوکہ بازوں تک پہنچنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔