Read in English  
       
Tribal Neglect

حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے کہا ہے کہ چنچو قبائل آج بھی بس، روزگار، بجلی اور پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، جو حکومتی بے حسی کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ جاگروتی پسماندہ اور قبائلی طبقات کے حقوق کے لیے ہر محاذ پر جدوجہد جاری رکھے گی۔

ناگرکرنول ضلع میں جاری جنم باٹا پروگرام کے دوران کویتا نے قبائلی علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ پہلے دن کی سرگرمیوں کے بعد انہوں نے کلواکرتی اسمبلی حلقہ کے سالارپور تانڈا میں قیام کیا، جہاں وہ مقامی گرجن عوام کے درمیان رہیں اور ان کے روزمرہ حالات کا براہِ راست مشاہدہ کیا۔

انہوں نے سیوا لال مندر میں پوجا کی، قبائلی خواتین کے ساتھ روایتی رقص میں شریک ہوئیں اور ان کے ساتھ ایک ہی صف میں بیٹھ کر کھانا تناول کیا۔ اس سے قبل وہ کولہاپور کے ایرکلا واڑہ بھی گئیں، جہاں عوام سے گھل مل کر ان کے مسائل اور مشکلات سے آگاہ ہوئیں۔

قبائلی بستیوں میں دو گھنٹے سے زائد کا وقت گزارا | Tribal Neglect

ناگرکرنول ضلع کے دورے کے دوسرے دن اتوار کو کویتا نے امرآباد ریزرو فاریسٹ میں واقع اپّا پور چنچو پینٹا کا دورہ کیا۔ انہوں نے چنچو قبائل کی بستیوں میں دو گھنٹے سے زائد وقت گزارا اور ان کی روزمرہ زندگی میں بنیادی سہولتوں کی شدید کمی کا جائزہ لیا۔

انہوں نے دیکھا کہ سڑک اور بجلی جیسی سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث ہنگامی حالات میں قبائلی عوام کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کویتا نے یاد دلایا کہ تلنگانہ جاگروتی نے نلملہ کے جنگلات میں چنچو قبائل کے تحفظ کے لیے ماضی میں مائننگ کے خلاف مضبوط جدوجہد کی تھی اور یہ تحریک آئندہ بھی جاری رہے گی۔

Tribal Neglect

انہوں نے کہا کہ قبائلی باشندوں کے مطابق منریگا کے تحت ملنے والے کام کے دن اب دستیاب نہیں رہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک قدیم گرام پنچایت ہونے کے باوجود اس بستی میں آج تک بجلی فراہم نہیں کی گئی، جو نہایت تشویشناک ہے۔

گھروں، پانی اور روزگار پر سوال | Tribal Neglect

کویتا نے نشاندہی کی کہ ایک طرف سفاری پارک قائم کیا گیا ہے، لیکن دوسری طرف اسی گاؤں کے عوام بجلی سے محروم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پینے کے پانی اور بجلی کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے اور حکومت کو اس معاملے میں سنجیدگی دکھانی ہوگی۔

انہوں نے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت تعمیر شدہ مکانات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پانچ لاکھ روپے کے مکانات کے دعوے کے باوجود یہ مکانات شیڈ نما ہیں، جن میں نہ دھوپ سے بچاؤ ہے اور نہ بارش سے تحفظ۔ ان کے مطابق یہ مکانات ڈیڑھ لاکھ روپے کی مالیت کے بھی نظر نہیں آتے اور اس پر وہ مرکزی حکومت سے جواب طلب کریں گی۔

کویتا نے کہا کہ قبائلی کوآپریٹو ادارہ گرجن کارپوریشن چنچو قبائل کی تیار کردہ اشیاء کی خریداری نہیں کر رہا اور آئی ٹی ڈی اے سے آنے والی رقومات بھی قبائلی علاقوں تک نہیں پہنچ رہیں۔ انہوں نے بس سہولتوں اور آٹو رکشاؤں سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

آخر میں صدر تلنگانہ جاگروتی نے واضح کیا کہ وہ پسماندہ اور قبائلی طبقات کے دکھ سکھ میں ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہیں گی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہیں گی۔