Read in English  
       
BRS MLAs Disqualification

حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی اسپیکر نے بی آر ایس چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ یہ نوٹسز BRS MLAs Disqualification سے متعلق درخواستوں کے تحت چھ منحرف اراکین اسمبلی کو جاری ہوئے ہیں۔

اسپیکر کی جانب سے جگتیال کے رکن اسمبلی سنجے، بانسواڑہ کے رکن اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی، بھدراچلم کے رکن اسمبلی ٹیلم وینکٹا راؤ، گدوال کے رکن اسمبلی بندلا کرشنا موہن ریڈی، چیوڑلہ کے رکن اسمبلی کالے یادیاہ اور پٹن چیرو کے رکن اسمبلی گوڈم مہپال ریڈی کو نوٹس روانہ کیے گئے ہیں۔

پس منظر اور سیاسی ردعمل

یہ ارکان اسمبلی پہلے ہی ابتدائی نوٹسز کا جواب دے چکے تھے، تاہم بی آر ایس کی جانب سے مزید جواب الجواب جمع کرائے گئے۔ پارٹی کے نمائندے جگدیش ریڈی، کے پی ویویکانند اور چنتا پربھاکر نے اسمبلی کے جوائنٹ سکریٹری اپیندر ریڈی کو پیر کے روز اپنے جوابات پیش کیے۔

بی آر ایس قائدین نے الزام لگایا کہ کانگریس میں شامل ہونے والے دس ارکان اسمبلی کسی صورت احتساب سے بچ نہیں سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منحرف ارکان عوام کے سامنے چوروں کی طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی تھیلوں کے ساتھ بچ نکلے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر لوگ بھی نتائج سے محفوظ رہیں گے۔

آئندہ کے امکانات

بی آر ایس رہنماؤں نے خبردار کیا کہ BRS MLAs Disqualification وقتی طور پر بچ نکلیں تو بھی جلد عدالتوں میں ان کے خلاف کارروائی شروع ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان نشستوں پر ضمنی انتخابات ناگزیر ہوں گے اور عوام اپنے فیصلے سے ان کے سیاسی مستقبل کا خاتمہ کریں گے۔