Read in English  
       
Bihar Legacy

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے گورنر شیو پرتاپ شکلا نے لوک بھون میں منعقدہ بہار دیوس تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جہاں ریاست کے قیام اور قومی سطح پر اس کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ خاتونِ اول جانکی شکلا بھی موجود تھیں، جبکہ انہوں نے شرکاء کو مبارکباد پیش کی۔ مزید برآں، گورنر نے بہار کے عوام اور رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ریاست کی تعمیر اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

گورنر نے اپنے خطاب میں یاد دلایا کہ بہار 22 مارچ 1912 کو بنگال پریزیڈنسی سے علیحدگی کے بعد وجود میں آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد بھی یہ ریاست جمہوریہ کا ایک اہم حصہ رہی۔ اسی دوران، بہار نے ثقافتی، روحانی، سیاسی اور تعلیمی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں، جو آج بھی ملک کی شناخت کا حصہ ہیں۔

بہار کی تاریخی اہمیت | Bihar Legacy

گورنر نے بہار کو قدیم تہذیب کا مرکز قرار دیتے ہوئے اس کے شاندار ماضی کا ذکر کیا۔ خاص طور پر انہوں نے نالندہ اور وکرم شیلا یونیورسٹیوں کو علمی وراثت کی علامت قرار دیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے بودھ گیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں بھگوان بدھ نے معرفت حاصل کی، جو اس خطے کی روحانی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

مزید برآں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہار کی تاریخ نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی تہذیب پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وراثت کو نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ قومی شناخت مضبوط ہو سکے۔

قومی یکجہتی اور ثقافتی تبادلہ | Bihar Legacy

یہ تقریب مرکزی حکومت کے ’ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘ اقدام کے تحت منعقد کی گئی، جس کا مقصد ثقافتی تبادلے کے ذریعے قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ اسی تناظر میں، تلنگانہ میں منعقدہ بہار دیوس تقریب اس وژن کی عکاسی کرتی ہے۔ دریں اثنا، بہار کے گورنر کا ویڈیو پیغام بھی تقریب میں پیش کیا گیا جس میں ریاست کی ترقی اور امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔

پروگرام کے دوران بہار ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے ریاست کی تاریخی اور ثقافتی جھلک پیش کی۔ علاوہ ازیں، فنکاروں نے روایتی رقص اور دیگر ثقافتی مظاہرے پیش کیے، جنہوں نے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ تقریب میں ایم دانا کشور، آئی اے ایس، اور وجے کمار، آئی پی ایس سمیت کئی اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ حیدرآباد میں مقیم بہاری برادری کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

اختتامیہ طور پر، یہ تقریب نہ صرف بہار کی عظیم وراثت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ مختلف ریاستوں کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتی ہے۔ لہٰذا، ایسے اقدامات مستقبل میں قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔