Read in English  
       
Bhatti Vikramarka

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹر ملّو بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ریاست کے عوام آئندہ مقامی ادارہ جاتی انتخابات میں کانگریس کو بھرپور تائید اور دعائیں دیں گے۔ Bhatti Vikramarka نے یہ بات اپنے مدھیرا کیمپ آفس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ کانگریس حکومت گزشتہ ایک دہے میں بھارت راشٹرا سمیتی کے دورِ اقتدار سے متاثرہ اقتصادی اور انتظامی نظام کو درست کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کے لئے شروع کردہ فلاحی اور ترقیاتی پروگرام ریاست کے ہر گھر تک پہنچ چکے ہیں۔

بی سی کوٹہ اور بی آر ایس پر تنقید

ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ کانگریس نے منصوبہ بندی محکمہ کے ذریعہ سماجی و تعلیمی سروے کرا کر بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کیے۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا راہول گاندھی، چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور ’اندیرما حکومت‘ کے سر باندھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس قائدین عدالتوں میں درخواستیں داخل کر کے کانگریس کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سابقہ حکومت ایک گھر ایک ملازمت اور دلتوں کو تین ایکڑ زمین دینے کے وعدے پورے نہ کر سکی۔ مزید برآں، دس برس گزرنے کے باوجود قرض معافی بھی مکمل نہ ہو سکی۔ ان کے بقول، بی آر ایس نے کالیشورم پراجکٹ پر 1,00,000 کروڑ روپئے خرچ کئے جو بعد میں ناکام ہوگیا۔

فلاحی اسکیمیں اور مکانات کی تعمیر

بھٹی وکرمارکا نے بتایا کہ کانگریس حکومت نے پہلے ہی 60,000 ملازمتوں کا اعلان کیا ہے جن میں گروپ اول اور گروپ دوم کے تقررات بھی شامل ہیں۔ حکومت نے صرف نو دنوں میں 21,000 کروڑ روپئے قرض معافی اور 9,000 کروڑ روپئے رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت جاری کئے۔ کسانوں کو 29 لاکھ پمپ سیٹس کے لئے مفت برقی دی گئی جبکہ گھروں کو 200 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ عمدہ چاول پیدا کرنے والے کسانوں کو فی کوئنٹل 500 روپئے بونس دیا گیا۔

اندرماں ہاوسنگ اسکیم کے تحت ہر مکان کے لئے 5 لاکھ روپئے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ پہلی مرحلے میں 4,50,000 مکانات کی تعمیر 22,500 کروڑ روپئے کی لاگت سے جاری ہے۔ تلنگانہ کی 1 کروڑ 5 لاکھ فیملیوں میں سے 96 لاکھ خاندان ہر ماہ فی فرد 6 کلو عمدہ چاول مفت حاصل کر رہے ہیں، جو کھلے بازار میں فی کلو 56 روپئے میں فروخت ہوتا ہے۔

Bhatti Vikramarka نے مزید بتایا کہ ریاست بھر میں خواتین آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کر رہی ہیں۔ خود امدادی گروپوں کو ہر سال 20,000 کروڑ روپئے کے بلا سود قرضے فراہم ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں ایک کروڑ خواتین لاکھ پتی بن جائیں گی۔