Read in English  
       
Tribal Education

حیدرآباد: اشواراؤپیٹ کے رکن اسمبلی جارے آدی نارائن نے منگل کے روز اسمبلی میں اپنے حلقہ انتخاب سے جڑے تعلیم اور اساتذہ کے اہم مسائل اٹھائے، جس میں انہوں نے منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے لوک گیت کے ذریعے ایوان کی توجہ حاصل کی۔

اسمبلی میں بحث کے دوران انہوں نے کہا کہ اشواراؤپیٹ حلقہ کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق، دُمّو گوڈم اور چندروگونڈہ منڈلوں میں اب تک سرکاری جونیئر کالج قائم نہیں کیے گئے، حالانکہ ہر سال ان علاقوں سے 500 سے زائد طلبہ دسویں جماعت کامیابی سے مکمل کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے ستھوپلی یا کوتھاگوڈم جانا پڑتا ہے، جو غریب خاندانوں کے بچوں کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے کئی طلبہ اسکول کے بعد تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگلے تعلیمی سال تک دونوں منڈلوں میں جونیئر کالج قائم کیے جائیں۔

اساتذہ کے مسائل اور قبائلی آواز | Tribal Education

جارے آدی نارائن نے اپنی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست میں آنے سے قبل سرکاری جسمانی تعلیم کے استاد رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کو درپیش دیرینہ مسائل اٹھاتے ہوئے جسمانی تعلیم کے اساتذہ کے لیے سالانہ خصوصی تربیتی پروگرام شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے قبائلی آشرم اسکولوں میں کام کرنے والے سی آر ٹی اساتذہ کو کم از کم ٹائم اسکیل تنخواہ دینے اور قبائلی بہبود کے اساتذہ کو اسکول گیمز فیڈریشن کی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی بھی اپیل کی۔

لوک گیت کے ذریعے مطالبات | Tribal Education

اپنی تقریر کے اختتام پر رکن اسمبلی نے قبائلی بہبود کی وزیر سیتکّا سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی خواتین کی جدوجہد پر مبنی ایک لوک گیت گایا، جس سے پورا ایوان متوجہ ہو گیا۔

انہوں نے حکومت سے قبائلی علاقوں میں آنگن واڑی نظام کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا اور مُلکلا پلی منڈل ہیڈکوارٹر میں آنگن واڑی پروجیکٹ دفتر قائم کرنے کی بھی درخواست کی۔