Read in English  
       
Airtel

حیدرآباد: بھارتی Airtelنے تلنگانہ حکومت کی جانب سے ریاست بھر میں بجلی کے کھمبوں سے خطرناک کیبل تاریں ہٹانے کے ہنگامی احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ یہ احکامات حالیہ دنوں حیدرآباد میں پیش آئے دو کرنٹ لگنے کے واقعات کے بعد جاری کئے گئے جن میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان ہلاکتوں میں 5 افراد سری کرشنا شو بھا یاترا کے دوران رامنتاپور حادثے کے تھے۔

جمعرات کو جسٹس ناگیش بھیماپاکا نے اس درخواست کی سماعت کی۔ ایئرٹیل کی طرف سے سینئر وکیل ایس روی پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی نے پہلے ہی تمام ضروری اجازت نامے حاصل کرلئے تھے اور کیبل بچھانے کے لئے 21 کروڑ روپئے ادا بھی کرچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر پیشگی اطلاع دیے کیبل کاٹنے کی حکومتی کارروائی غیر قانونی ہے۔

ایس روی نے یہ بھی کہا کہ کئی گھریلو کنکشن بھی انہی بجلی کے کھمبوں سے جڑے ہوئے ہیں، ایسے میں صرف کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔ انہوں نے استدلال دیا کہ اچانک انٹرنیٹ سروس میں خلل آنے سے ڈاکٹروں، وکلاء، آئی ٹی پروفیشنلز اور طلبہ کو شدید دشواری ہورہی ہے۔

اس کے برعکس تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ اور حکومت کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ بجلی کے کھمبوں پر کیبل تاروں کا غیر ضروری اور غیر منظم استعمال بار بار خطرہ پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ ماضی میں بھی ٹیلی کام کمپنیاں اسی طرح کی کارروائیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرچکی ہیں اور بعد میں اپنی درخواستیں واپس لے لی تھیں۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے فوری طور پر کوئی عبوری راحت دینے سے انکار کردیا اور ایئرٹیل کو تحریری دلائل داخل کرنے کی ہدایت دی۔ کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی گئی۔ اس دوران عدالت نے ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کو مزید تار ہٹانے سے روک دیا۔

یہ تنازعہ حالیہ ہلاکتوں کے بعد شدت اختیار کرگیا ہے اور اب عدالت، حکومت، ٹیلی کام کمپنیوں اور سماجی تنظیموں کی شمولیت کے ساتھ معاملہ فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔