Read in English  
       
BC Reservation

حیدرآباد: بی سی ویلفیئر کے وزیر پونم پربھاکر نے بی جے پی قائدین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ BC Reservationپر محض دکھاوا کر رہے ہیں اور اگر انہیں واقعی کوئی مسئلہ ہے تو انہیں دہلی میں احتجاج کرنا چاہیے، نہ کہ حیدرآباد کے دھرنا چوک پر۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے بی سی ریزرویشن کے سلسلے میں پوری شفافیت کے ساتھ اقدامات کیے ہیں—کاماریڈی ڈیکلیریشن سے لے کر ذات پات کی مردم شماری اور 42 فیصد ریزرویشن کے قانون کی منظوری تک۔ یہ بل اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد گورنر کو بھیجا گیا، جنہوں نے اسے صدر جمہوریہ کو روانہ کر دیا۔

پونم نے طنز کرتے ہوئے کہا:

“ہم نے وضاحت اور عزم دکھایا ہے، جبکہ بی جے پی قائدین ایسے احتجاج کر رہے ہیں جیسے انہیں خنجر مارا گیا ہو۔ وہ ایوان میں بل کی تائید کرتے ہیں اور پھر اس پر مسلمانوں کے نام پر اعتراض کرتے ہیں۔”

انہوں نے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی پر نشانہ سادہ کرتے ہوئے کہا:

“اگر بل میں کوئی خامی ہے تو اسے دور کریں، صدر سے منظوری دلائیں۔ مرکز میں آپ کی حکومت ہے، تو دہلی جائیں، دھرنا چوک پر بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔”

پونم پربھاکر نے بی جے پی ریاستی صدر جی رم چندر راؤ کو کمزور طبقات کا مخالف قرار دیا اور کہا کہ جو قائدین ان کے ساتھ احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں، وہ دراصل بی سی دشمنی کا حصہ بن رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ بی سی تنظیموں اور دانشوروں کو متحد کرتے ہوئے دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا جائے گا، جیسے تلنگانہ تحریک کے دوران کیا گیا تھا۔

“ہم سب کل یعنی 4 اگست کو دہلی روانہ ہوں گے۔ یہ لڑائی اجتماعی ہے، ہمیں اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی۔”

پربھاکر نے خبردار کیا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات 42 فیصد ریزرویشن نافذ ہونے کے بعد ہی ہوں گے۔ انہوں نے کہا:

“اگر بی جے پی واقعی تعاون کرنا چاہتی ہے تو وزیراعظم نریندر مودی کو راضی کریں، ان کے ایک لفظ سے بل قانون بن جائے گا۔”

آخر میں انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں احتجاج کرتے ہوئے بی جے پی قائدین محض سیاسی اداکاری کر رہے ہیں، اور عوام ان پر ہنس رہے ہیں۔