Read in English  
       
Paneer Racket

حیدرآباد ۔ شہر میں ملاوٹ شدہ ڈیری مصنوعات کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں کمشنر ٹاسک فورس نے سکندرآباد کے علاقے میں ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے 6 افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ افراد غیر معیاری اور غیر محفوظ پنیر اور دیگر اشیاء فروخت کر رہے تھے۔ مزید برآں، یہ مصنوعات نامعلوم ذرائع سے حاصل کی جا رہی تھیں جس سے عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق تھے۔

پس منظر میں دیکھا جائے تو فوڈ سیفٹی کے اصولوں کی خلاف ورزیوں کی شکایات کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ٹاسک فورس نے فوڈ سیفٹی آفیسر بی ساہتی کے ساتھ مل کر مہانکالی پولیس حدود میں گنج بازار کے قریب اچانک معائنہ کیا۔ اس دوران 6 تھوک اور ریٹیل دکانوں کی جانچ کی گئی۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان بڑی مقدار میں ملاوٹ شدہ پنیر اور دیگر ڈیری مصنوعات خرید کر ہوٹلوں، کیٹرنگ سروسز اور عام صارفین کو فروخت کر رہے تھے۔ تاہم وہ ان اشیاء کو معیاری ظاہر کر کے مارکیٹ میں پیش کرتے تھے، جس سے صارفین کو دھوکہ دیا جا رہا تھا۔

ضبط شدہ غیر معیاری ڈیری اسٹاک کی تفصیل| Paneer Racket

کارروائی کے دوران حکام نے پایا کہ ڈیری مصنوعات کو کھلے پلاسٹک کورز میں ذخیرہ کیا جا رہا تھا۔ نتیجتاً ان اشیاء پر گرد، مکھیاں اور دیگر آلودگیاں جمع ہو رہی تھیں، جو انہیں انسانی استعمال کے لیے خطرناک بنا رہی تھیں۔ اسی طرح، کسی بھی پروڈکٹ پر برانڈ، تیاری کی تاریخ یا میعاد ختم ہونے کی تفصیلات درج نہیں تھیں، جو فوڈ سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ٹاسک فورس نے مجموعی طور پر 3892 کلو ڈیری مصنوعات ضبط کیں، جن میں پنیر، کھویا، سفید کریم، گھی اور کلکَند شامل ہیں۔ اس ضبط شدہ مالیت کا تخمینہ تقریباً ₹11.11 لاکھ لگایا گیا ہے۔

ملزمان کی شناخت اور قانونی کارروائی| Paneer Racket

پولیس نے گرفتار افراد کی شناخت جے پال سنگھ راج پروہت، کولاریا ویبھو، نریش کولاریا، پریم انیل ویاس، رام کشور کولاریا اور لکشمی نارائنا کولاریا کے طور پر کی ہے۔ بعد ازاں، تمام ملزمان اور ضبط شدہ سامان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے مہانکالی پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا۔

یہ کارروائی انسپکٹر پی راگھویندر کی نگرانی میں انجام دی گئی، جبکہ سب انسپکٹر جی سری کانتھ اور دیگر ٹاسک فورس اہلکار بھی اس میں شامل تھے۔ دریں اثنا، حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی ممکن ہیں۔

آخر میں، یہ واقعہ شہری علاقوں میں خوراک کی حفاظت کے نظام پر سوال اٹھاتا ہے۔ لہٰذا متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نگرانی مزید سخت کریں تاکہ عوام کو محفوظ خوراک فراہم کی جا سکے۔