Read in English  
       
Comfort Footwear

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں رمضان المبارک کے دوران عبادات، تجارت اور سماجی سرگرمیوں کا ایک منفرد امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شہر کے بازاروں میں ایک نمایاں رجحان سامنے آیا ہے جس کے تحت آرام دہ جوتوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اس تبدیلی کی بنیادی وجہ نمازِ تراویح اور قیام اللیل جیسی طویل عبادات ہیں جن میں مصلیان کو طویل وقت تک کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ اسی لئے شہری اب فیشن کے بجائے ایسے جوتوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو آرام، سہارا اور صحت کے تقاضوں کو پورا کریں۔

ماہرین کے مطابق طویل قیام کے دوران پیروں، ٹخنوں اور کمر پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اگر مناسب جوتے استعمال نہ کئے جائیں تو ایڑی کے درد، سوجن اور پٹھوں کی تھکن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

رمضان کی عبادات اور جوتوں کی ضرورت | Comfort Footwear

رمضان شروع ہوتے ہی حیدرآباد کی راتوں کا منظر بدل جاتا ہے۔ شہر کی تاریخی مساجد خصوصاً مکہ مسجد میں ہزاروں افراد نمازِ تراویح کے لئے جمع ہوتے ہیں جہاں عبادت کا سلسلہ دیر رات تک جاری رہتا ہے۔

’’شہر کے بزرگ شہری بھی اب نرم تلووں والے سینڈل اور آرتھوپیڈک چپل کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ آغا پورہ کے رہائشی 70 سالہ شیخ عبدالجمیل کے مطابق طویل قیام کے دوران نرم تلووں والے جوتے درد اور تھکن کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔‘‘

طبی ماہرین کے مطابق طویل نمازیں جسمانی طور پر ایک معتدل ورزش کی طرح ہوتی ہیں جو خون کی گردش اور پٹھوں کی لچک کو بہتر بناتی ہیں۔ تاہم اس کے مثبت اثرات اسی وقت ممکن ہیں جب پیروں کو مناسب سہارا فراہم کیا جائے۔

خواتین میں آرام اور فیشن کا امتزاج | Comfort Footwear

خواتین میں بھی ایسے جوتوں کی مانگ بڑھ رہی ہے جو بیک وقت خوبصورت اور آرام دہ ہوں۔ خاص طور پر وہ خواتین جو بچوں کے ساتھ مساجد جاتی ہیں یا طویل تراویح میں شریک ہوتی ہیں، معیار اور سہولت دونوں کو اہمیت دیتی ہیں۔

’’اس حوالے سے فلیٹ سینڈلز، نرم فوم سلیپرز، لو ہیل آرتھوپیڈک چپل اور سانس لینے والے اسٹریپس والے ڈیزائن زیادہ مقبول ہو رہے ہیں۔ ٹولی چوکی کی رہائشی ام عفان کے مطابق خواتین ایسے جوتے پسند کرتی ہیں جو سادہ بھی ہوں اور عبادت کے دوران آرام بھی فراہم کریں۔‘‘

رمضان کے دوران حیدرآباد کے بازار رات بھر آباد رہتے ہیں۔ عابڈس اور کوٹھی جیسے علاقوں میں جدید برانڈز اور آرتھوپیڈک جوتوں کی بڑی ورائٹی دستیاب ہے جہاں متوسط اور اعلیٰ طبقے کے خریدار بڑی تعداد میں آتے ہیں۔

دوسری جانب بارکس بازار اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے جہاں یمنی اثرات نمایاں ہیں۔ یہاں ’اربہ چپل‘ خاص طور پر مقبول ہے جو اپنی پائیداری اور آرام کی وجہ سے طویل عبادات کے لئے موزوں سمجھی جاتی ہے۔

Comfort Footwear

ٹولی چوکی اور مہدی پٹنم جیسے علاقے بھی اب جدید فیشن کے مراکز بن چکے ہیں۔ یہاں خلیجی ممالک سے متاثر ڈیزائنز کے ساتھ ایسے جوتے دستیاب ہیں جو نوجوانوں میں خاصے مقبول ہیں۔

طبی تقاضے اور آرتھوپیڈک رجحانات | Comfort Footwear

حیدرآباد میں صحت کے حوالے سے بڑھتے شعور نے جوتوں کے انتخاب کو ایک طبی ضرورت بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے جوتے جن میں آرچ سپورٹ اور بہتر کشننگ موجود ہو وہ طویل قیام کے دوران جسمانی توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

شہر میں پیروں کی صحت کے لئے مخصوص کلینکس بھی قائم ہو چکے ہیں جہاں گائٹ اینالیسس اور کسٹم آرتھوپیڈک انسولز جیسی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ سہولتیں افراد کو اپنے پیروں کے مطابق مناسب جوتے منتخب کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فلیٹ فٹ والے افراد کے لئے خاص محراب والی سپورٹ ضروری ہوتی ہے کیونکہ اس کے بغیر طویل قیام تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔

رمضان ایکسپو اور جدید خریداری کلچر

حیدرآباد میں گزشتہ چند برسوں کے دوران رمضان ایکسپو کا رجحان بھی تیزی سے بڑھا ہے۔ یہ نمائشیں عام طور پر بڑے فنکشن ہالز میں منعقد کی جاتی ہیں جہاں لوگ آرام دہ ماحول میں سحری تک خریداری کر سکتے ہیں۔

ان ایکسپوز میں مختلف برانڈز کے جوتے ایک ہی جگہ دستیاب ہوتے ہیں جس سے خریداروں کو موازنہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ یہاں آرچ سپورٹ پیڈز اور میموری فوم انسولز کی فروخت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مقامی صنعت اور کاریگروں کا کردار | Comfort Footwear

اگرچہ عالمی برانڈز جیسے باٹا اور اسکیچرز شہر میں مقبول ہیں، لیکن مقامی جوتوں کی صنعت اب بھی مضبوط ہے۔ پرانے شہر کے علاقوں میں واقع ورکشاپس میں سینکڑوں کاریگر ہاتھ سے چمڑے کے جوتے تیار کرتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں ہاتھ سے بنے جوتوں کی قدر میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہ جوتے وقت کے ساتھ پیروں کی ساخت کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔ مقامی کاریگر روایتی جوتی اور موجری میں جدید نرم تلووں کا استعمال بھی کر رہے ہیں تاکہ انہیں طویل عبادات کے لئے موزوں بنایا جا سکے۔

رمضان کے دوران نوجوان طبقہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی بڑی تعداد میں خریداری کر رہا ہے۔ تاہم بزرگ اور خواتین اب بھی چارمینار اور پرانے شہر کے بازاروں سے خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔

دکانداروں کے مطابق رمضان کے مہینے میں آرام دہ جوتوں کی فروخت عام مہینوں کے مقابلے میں 25 سے 30 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔

عبادت کے دوران صحت کے مشورے | Comfort Footwear

ماہرین صحت کے مطابق طویل قیام کے دوران صرف مناسب جوتے ہی کافی نہیں بلکہ چند احتیاطی تدابیر بھی ضروری ہیں۔ نماز سے پہلے ہلکی اسٹریچنگ، تراویح کے بعد پیروں کا مساج اور آرام دہ موزوں کا استعمال پیروں کو تھکن سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

اگر کسی شخص کو مسلسل درد محسوس ہو تو اسے آرام، برف کی ٹکور اور مناسب طبی مشورہ لینے کی ہدایت دی جاتی ہے۔

معاشی اثرات اور مستقبل کی سمت | Comfort Footwear

رمضان کا مہینہ حیدرآباد کی معیشت میں نمایاں سرگرمی پیدا کرتا ہے اور جوتوں کی صنعت اس کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ بازاروں میں بڑھتی ہوئی خریداری نہ صرف کاروبار کو فروغ دیتی ہے بلکہ سینکڑوں افراد کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں ٹیکنالوجی اور روایتی دستکاری کا امتزاج اس صنعت کو مزید ترقی دے سکتا ہے۔ اس طرح آرام دہ جوتوں کی بڑھتی ہوئی طلب نہ صرف شہریوں کی صحت اور سہولت کو بہتر بنائے گی بلکہ شہر کی معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت دے گی۔