Read in English  
       
Union Budget 2026–27 focuses on youth, reforms, capital spending, and tax compliance, aiming for growth with fiscal prudence.

حیدرآباد: وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ میں یونین بجٹ 2026–27 پیش کیا۔ اس بجٹ کو انہوں نے نوجوانوں پر مبنی اور اصلاحات کو فروغ دینے والا خاکہ قرار دیا۔ اس بجٹ میں مالیاتی خسارہ 4.3 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ جب کہ سرمایہ جاتی اخراجات 12.2 لاکھ کروڑ روپۓ کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیے گئے ہیں۔ درحقیقت، یہ دونوں اقدامات مضبوط مالی نظم و ضبط اور معاشی ترقی کی جانب حکومتی عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اس بار بجٹ کی تیاری پہلی مرتبہ کَرتوِیہ بھون میں ہوئی۔ بجٹ کا خاکہ تین اہم فرائض پر مبنی ہے: تیز تر ترقی، عوامی امنگوں کی تکمیل، اور جامع ترقی کا فروغ۔ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے نظریہ کے ساتھ یہ بجٹ مالی استحکام، انتظامی بہتری، اور اقتصادی اصلاحات پر زور دیتا ہے۔ مزید یہ کہ، ماحول دوست ترقی اور ڈیجیٹل گورننس بھی اس کی نمایاں ترجیحات میں شامل ہیں۔

ٹیکس اصلاحات، نوجوانوں اور صنعتوں کے لیے اقدامات | Union Budget 2026–27 Highlights

وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ نیا انکم ٹیکس ایکٹ 2025 اپریل 2026 سے نافذ ہوگا۔ اس میں آسان فارم اور واضح قوانین شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، غیر ملکی دورہ پیکج پر ٹی سی ایس کم ہو کر 2 فیصد کر دیا گیا ہے۔ مین پاور سروسز پر ٹی ڈی ایس کے اصول بھی آسان بنائے گئے ہیں۔ ایک بار کے لیے بیرون ملک اثاثوں کے افشا کی چھ ماہ کی اسکیم بھی تجویز کی گئی ہے۔

ایف ڈی آئی اور برآمدات کو بڑھاوا دینے کے لیے متعدد کسٹمز اصلاحات لائی گئی ہیں۔ لیتھیئم آئن بیٹری، سولر گلاس، ہوائی جہاز کے پرزے، اور اہم معدنیات کی مشینری پر درآمدی محصولات کم کر دی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ، نجی درآمدات پر ٹیرف 20 فیصد سے گھٹاکر 10 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اب 17 نایاب بیماریوں کی دوائیں کسٹمز ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

کاروبار کو آسان بنانے کے لیے کسٹمز انٹیگریٹڈ سسٹم اگلے دو سال میں نافذ ہوگا۔ کارگو کلیئرنس کے لیے سال کے آخر تک ایک واحد ڈیجیٹل ونڈو شروع کی جائے گی۔

Union Budget 2026–27 focuses on youth, reforms, capital spending, and tax compliance, aiming for growth with fiscal prudence.

نوجوان، ایم ایس ایم ایز اور ڈھانچہ جاتی ترقی کو فروغ | Union Budget 2026–27 Highlights

مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے 10,000 کروڑ روپۓ کی “بایوفارما شکتی” اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت تین نئے دواساز ادارے قائم کیے جائیں گے۔ مزید یہ کہ سات کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اسی طرح، ٹیکسٹائل سیکٹر کو ’سمرتھ 2.0‘ اسکیم سے مدد ملے گی۔ اس میں فائبر، کلسٹر، مہارت، اور پائیداری پر توجہ ہوگی۔

ایم ایس ایم ایز کے لیے 10,000 کروڑ روپۓ کا ’ایس ایم ای گروتھ فنڈ‘ قائم کیا جائے گا۔ یہ فنڈ منتخب کاروبار کو ترقی میں مدد دے گا۔ پبلک سرمایہ کاری 12.2 لاکھ کروڑ روپۓ تک پہنچ جائے گی۔ یہ رقم پچھلے سال کے 11.2 لاکھ کروڑ سے زیادہ ہے۔ فنڈز فریٹ کاریڈور، 20 نئے قومی آبی راستوں، اور سٹی اکنامک ریجنز (CERs) میں استعمال ہوں گے۔ ہر CER کو پانچ سال میں 5,000 کروڑ روپۓ دیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں، سات ہائی اسپیڈ ریل کاریڈورز کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جو ممبئی، پونے، حیدرآباد، چنئی، بنگلور، اور وارانسی کو جوڑیں گے۔ یہ منصوبے علاقائی رابطے اور پائیدار آمد و رفت کو فروغ دیں گے۔

تعلیم، سیاحت، اور جامع ترقی پر توجہ | Union Budget 2026–27 Highlights

تعلیم کے میدان میں ہر ضلع میں لڑکیوں کے لیے ایس ٹی ای ایم ہاسٹل بنائے جائیں گے۔ انیمیشن اور گیمنگ سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے ممبئی میں ’انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کری ایٹو ٹیکنالوجیز‘ کے تحت 15,000 اسکولوں اور 500 کالجوں میں AVGC لیبز قائم کی جائیں گی۔

سیاحت کو فروغ دینے کے لیے آئی آئی ایمز کے ساتھ 12 ہفتوں کا گائیڈ ٹریننگ پروگرام شروع ہوگا۔ اس کے ساتھ پانچ علاقائی میڈیکل ہبز قائم کیے جائیں گے۔ کھیلوں میں ’کھیلو انڈیا مشن‘ اگلے دہے میں ٹیلنٹ شناخت، کوچنگ، اور اسپورٹس سائنس پر زور دے گا۔

جامع ترقی کے تحت خواتین، کسان، معذور افراد، اور مشرقی ریاستوں پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ’بھارت وِستار‘ کے نام سے ایک ملٹی لِنگول AI ٹول متعارف ہوگا جو زرعی مشوروں کے لیے اگری اسٹیک اور ICAR ڈیٹا کو جوڑے گا۔ ساتھ ہی، ذہنی صحت کے لیے دوسرا NIMHANS قائم ہوگا۔ جب کہ رانچی اور تیزپور کے اداروں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ مشرقی بھارت میں بدھ سیاحتی سرکٹس، 4,000 الیکٹرک بسیں، اور ایسٹ کوسٹ انڈسٹریل کاریڈور کی ترقی بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔