Read in English  
       
Disqualification Case

حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی کے اسپیکر گڈم پرساد کمار نے جمعہ کو خیرت آباد کے رکن اسمبلی دانم ناگیندر کے خلاف دائر نااہلی درخواستوں پر باضابطہ سماعت کا آغاز کر دیا۔ یہ کارروائی اسمبلی میں اسپیکر کے چیمبر میں انجام دی گئی، جس کے باعث ریاستی سیاست میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

اسپیکر نے دانم ناگیندر سے متعلق دو نااہلی درخواستوں پر سماعت کی۔ یہ درخواستیں بی آر ایس کے رکن اسمبلی پاڈی کوشک ریڈی نے دائر کی تھیں، جو اپنے قانونی مشیروں کے ساتھ پیش ہوئے اور دلائل رکھے۔ اسی دوران دانم ناگیندر بھی اپنے وکلا کے ہمراہ سماعت میں شریک ہوئے۔

سماعت سے قبل دانم ناگیندر نے اسپیکر کو ایک حلف نامہ جمع کرایا۔ حلف نامے میں انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے بھارت راشٹرا سمیتی سے استعفیٰ نہیں دیا اور وہ بدستور پارٹی کے رکن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارچ 2024 میں کانگریس کے ایک اجلاس میں شرکت ذاتی حیثیت میں تھی، جسے پارٹی تبدیلی نہیں کہا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن اور تیز سماعت | Disqualification Case

اسی معاملے میں اسپیکر نے ایک اور نااہلی درخواست پر دوپہر 12 بجے الگ سماعت مقرر کی ہے، جو بی جے پی قانون ساز پارٹی کے قائد الیٹی مہیشور ریڈی نے دائر کی تھی۔ اس پیش رفت سے واضح ہو گیا ہے کہ معاملے کی حساسیت میں اضافہ ہو چکا ہے۔

یہ سماعتیں اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہیں کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے مقررہ مہلت 31 جنوری کو ختم ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے اسپیکر نے نااہلی معاملات میں کارروائی کی رفتار تیز کر دی ہے، تاکہ قانونی تقاضے بروقت پورے کیے جا سکیں۔

ریاستی سیاست میں بڑھتی دلچسپی | Disqualification Case

ماضی میں اسپیکر نے ارکان اسمبلی کی مبینہ پارٹی تبدیلی سے متعلق متعدد درخواستوں کو مسترد کیا تھا۔ نتیجتاً دانم ناگیندر کے معاملے پر ہونے والی سماعت پر سیاسی حلقوں کی گہری نظر ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کیس پر اسپیکر کا فیصلہ ریاستی سیاست کے لیے دور رس اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے آنے والے دنوں میں اس نااہلی معاملے کو ایک بڑے سیاسی موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔