Read in English  
       
Education Crisis

حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی کے اجلاس کے چوتھے دن پیر کو ایوان کی کارروائی اس وقت ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گئی جب بی جے پی ارکان نے سرکاری تعلیمی اداروں میں بحران پر فوری بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ریاست بھر میں سرکاری اسکولوں، جونیئر کالجوں، ڈگری کالجوں اور پی جی جامعات میں طلبہ کے داخلوں میں خطرناک حد تک کمی آئی ہے۔

ایوان کی کارروائی سے قبل بی جے پی مقننہ پارٹی کے قائد الیٹی مہیشور ریڈی کی قیادت میں پارٹی اراکین نے اسمبلی سکریٹری کو التوا کی تحریک پیش کی۔ تحریک کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں گرتے داخلوں اور بگڑتی صورتحال پر فوری بحث کرائی جائے۔

داخلوں میں کمی پر تشویش | Education Crisis

بی جے پی ارکان نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری تعلیمی نظام پر عوامی اعتماد مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ناقص بنیادی ڈھانچہ اور سہولتوں کی کمی کے باعث والدین اور طلبہ سرکاری اداروں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

اراکین نے نشاندہی کی کہ سابقہ حکومت کے دور سے فیس ری ایمبرسمنٹ کی جو رقم بقایا تھی، وہ اب بڑھ کر تقریباً 10,000 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے بقول فنڈز کی بروقت اجرائی نہ ہونے سے کالج انتظامیہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔

کالج بند، طلبہ متاثر | Education Crisis

بی جے پی کے مطابق فیس ری ایمبرسمنٹ میں تاخیر کے باعث کئی کالج عملے کو تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض ادارے بند بھی ہو چکے ہیں۔ ارکان نے یہ بھی کہا کہ متعدد طلبہ کورس مکمل کرنے کے باوجود اپنے سرٹیفکیٹس حاصل نہیں کر پا رہے۔

ان حالات کے باعث طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع سے محرومی کا سامنا ہے۔ اسی لیے بی جے پی نے بقایا رقم فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسپیکر کا فیصلہ، ایوان میں ہنگامہ | Education Crisis

اجلاس کے آغاز پر جیسے ہی اسپیکر گڈم پرساد کمار نے سوالیہ ساعت شروع کی، بی جے پی ارکان اسپیکر کے پوڈیم کی جانب بڑھ گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔

اسپیکر نے التوا کی تحریک مسترد کر دی، جس کے بعد ایوان میں بدنظمی پیدا ہو گئی اور کارروائی متاثر ہوئی۔ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے کچھ دیر تک اسمبلی کی کارروائی متاثر رہی۔