Read in English  
       
Flight Crisis

حیدرآباد: انڈیگو میں بڑے آپریشنل بریک ڈاؤن نے ملک بھر میں فضائی سفر کو مفلوج کر دیا ہے۔ صورتحال اتنی سنگین ہو گئی کہ آج 500 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں اور ٹکٹوں کی قیمتیں ریکارڈ حد تک پہنچ گئیں۔ بحران کے تیسرے روز بھی پروازوں میں مسلسل تاخیر اور منسوخی کا سلسلہ جاری ہے۔ دہلی ایئرپورٹ نے بھی نصف شب تک تمام گھریلو روانگیاں معطل کر دی ہیں۔

ان حالات میں بڑے ہوائی اڈوں پر شدید ازدحام دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مسافر اچانک پیش آنے والی رکاوٹ کے باعث متبادل سفر کی تلاش میں بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ ٹکٹوں کی عدم دستیابی نے انہیں مشکل میں ڈال دیا ہے۔

کرایوں میں تاریخی اضافہ، متبادل سفر کی تلاش | Flight Crisis

انڈیگو کی پروازیں متاثر ہونے کے بعد دیگر ایئرلائنز نے مصروف روٹس پر ٹکٹوں کی قیمت کئی گنا بڑھا دیے ہیں۔ دہلی-ممبئی ریٹرن ٹکٹ 60,000 روپئے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ون وے کرایہ تقریباً 35,000 روپئے وصول کیا جا رہا ہے، جو معمول سے تین گنا زیادہ ہے۔ حیدرآباد سے دہلی، ممبئی، بنگلورو اور چینئی کے کرایے بھی 22,000 سے 30,000 روپئے کے درمیان پہنچ گئے ہیں، جو عام دنوں میں 6,000 سے 10,000 روپئے ہوتے ہیں۔ مسافروں نے شکوہ کیا کہ بعض بین الاقوامی ٹکٹ اس وقت سستی پڑ رہی ہیں۔

بحران کے باعث لوگ بڑی تعداد میں ٹرینوں اور سڑک کے سفر کی طرف رجوع کر رہے ہیں کیونکہ فضائی کرایے ان کی دسترس سے باہر ہو چکے ہیں۔

ایئرپورٹس پر بے چینی، سرکاری وضاحت کا انتظار | Flight Crisis

ملک کے مختلف ایئرپورٹس سے طویل قطاروں اور پریشان حال مسافروں کی تصاویر سامنے آ رہی ہیں۔ لوگ ری بکنگ یا ری فنڈ کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ابھی تک وزارتِ شہری ہوابازی کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے، جس کے باعث بے چینی مزید بڑھ رہی ہے۔