Read in English  
       
Telangana private colleges bandh

حیدرآباد: تلنگانہ میں Telangana Private Colleges Bandh کا آغاز پیر سے ہو چکا ہے، جب ریاست بھر کے 1,500 سے زائد نجی کالجوں نے 20 ماہ سے التوا شدہ فیس ری ایمبرسمنٹ کی ادائیگی کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے بند کا اعلان کیا۔

یہ فیصلہ تلنگانہ فیڈریشن آف ایسوسی ایشن آف ٹیکنیکل اینڈ ہائر ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (FATHEI) نے ہفتہ کو ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کے ساتھ ناکام مذاکرات کے بعد کیا۔

حکومت کی یقین دہانی ناکام، کالج انتظامیہ مایوس

اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر نے مالی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے بند سے گریز کرنے کی اپیل کی، تاہم کالج انتظامیہ نے اس موقف کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔

کالجوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے بارہا حکومت کو متبادل تجاویز پیش کیں، لیکن نہ کوئی ٹائم لائن دی گئی اور نہ ہی تحریری وعدہ کیا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ Telangana Private Colleges Bandh اب ان کی مجبوری بن چکا ہے۔

امتحانات ملتوی، تعلیمی نظام متاثر

بند کے باعث کئی امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ مہاتما گاندھی یونیورسٹی نے پیر سے شروع ہونے والے بی ایڈ امتحانات اب 26 ستمبر کو منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جے این ٹی یو کے تحت مختلف کورسز جیسے بی فارمیسی، ایم بی اے وغیرہ کے امتحانات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

FATHEI نے اعلان کیا ہے کہ جب تک فیس کی مکمل ادائیگی نہیں ہوتی، کلاسز اور امتحانی ڈیوٹی کا مکمل بائیکاٹ جاری رہے گا۔

مذاکرات کی ناکامی اور آئندہ کا لائحہ عمل

دوسرے دور کی بات چیت وزیر سری دھر بابو اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ویم نریندر ریڈی کے ساتھ ہوئی، مگر وہ بھی Telangana Private Colleges Bandh ختم کروانے میں ناکام رہے کیونکہ وہ کوئی واضح تحریری یقین دہانی نہیں کرا سکے۔

کالج انتظامیہ نے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی صرف زبانی وعدوں تک محدود ہے، اور اگر یہی رویہ برقرار رہا تو انجینئرنگ، نرسنگ، فارمیسی، بی ایڈ، ایم سی اے، ایم بی اے اور لاء کالج بند رہیں گے۔

ہنگامی اجلاس میں آئندہ حکمت عملی طے ہوگی

FATHEI نے پیر کی صبح ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی واضح قدم نہ اٹھایا گیا تو آئندہ ریاست گیر سخت احتجاج کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔