Read in English  
       
Boduppal Murder

حیدرآباد: بوڈاوپّل علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ Boduppal Murderمنظر عام پر آیا جہاں 28 سالہ کیب ڈرائیور نے اپنی حاملہ بیوی کا بے رحمی سے قتل کر دیا، جسم کے ٹکڑے کر کے موسیٰ ندی میں پھینک دیے۔ اس خوفناک واردات نے دہلی کی شردھا والکر قتل کیس کی یاد تازہ کر دی۔

ملکاجگری ڈی سی پی پدمجا کے مطابق ملزم کی شناخت سمالا مہندر ریڈی کے طور پر ہوئی جو ضلع وقارآباد کے کوماریڈی گوڑا کا رہنے والا ہے۔

اس کی شادی جنوری 2024 میں سواتی (عمر 21 سال) سے آریہ سماج، کوکٹ پلی میں ہوئی تھی۔

شادی کے بعد یہ جوڑا حیدرآباد منتقل ہو کر بوڈاوپّل میں رہنے لگا۔ بین ذات شادی کی وجہ سے دونوں خاندانوں میں کشیدگی پائی جاتی تھی اور میاں بیوی میں اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔

درج ہوچکا تھا جہیز ہراسانی کا کیس

چار ماہ بعد سواتی نے وقارآباد ویمن پولیس اسٹیشن میں جہیز ہراسانی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ بزرگوں کی مداخلت سے معاملہ وقتی طور پر سلجھ گیا مگر تنازعات جاری رہے۔

سواتی دو بار حاملہ ہوئی۔ پہلی بار زبردستی اسقاط حمل کرایا گیا، جبکہ مارچ 2024 میں دوبارہ حمل ٹھہرا اور وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھی۔

22 اگست کو سواتی نے شوہر سے کہا کہ اسپتال چیک اپ کے بعد میکے جانا چاہتی ہے۔ اس بات پر جھگڑا ہوا اور مہندر نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اگلے دن اس نے بوڈاوپّل کی ایک دکان سے ہیکسا بلیڈ خریدے۔

شام کو جھگڑا بڑھنے پر اس نے سواتی کا گلا گھونٹ کر قتل کیا۔

پھر جسم کے ٹکڑے کیے، سر، ہاتھ اور ٹانگیں ایک بوری میں ڈال کر پرتاپ سنگارم کے قریب موسیٰ ندی میں پھینک دیے جبکہ دھڑ گھر پر ہی چھوڑ دیا۔

بعد ازاں ملزم میڈی پلی پولیس کے پاس پہنچا اور بیوی کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کرائی۔ پولیس کو شبہ ہوا اور گھر کی تلاشی لینے پر دھڑ برآمد ہوا۔ پوچھ گچھ کے دوران مہندر نے جرم قبول کر لیا۔

اہل خانہ پر جھگڑوں کو ہوا دینے کا الزام!

پولیس ٹیموں نے موسیٰ ندی میں باقی اعضاء کی تلاش شروع کی مگر تیز پانی کے بہاؤ کی وجہ سے وہ دستیاب نہ ہو سکے۔

لاش کا دھڑ پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا اور مہندر کو گرفتار کر لیا گیا۔

مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ مہندر کے اہل خانہ بین ذات شادی کے سبب مسلسل جھگڑوں کو ہوا دیتے رہے اور ان کا اثر بھی اس واردات میں شامل ہو سکتا ہے۔

پولیس اس پہلو کی بھی جانچ کر رہی ہے۔