Read in English  
       
Engineering fee

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے انجینئرنگ اور پیشہ ورانہ کالجوں کی فیسوں کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت Engineering feeمیں اضافہ اب صرف ادارے کے آڈٹ شدہ کھاتوں اور تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

اس ہفتے جاری کردہ سرکاری احکام کے مطابق اب فیس میں نظر ثانی یکساں طور پر یا خود بخود نہیں ہوگی بلکہ ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اداروں کے مختلف اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لے کر فیصلہ کرے گا۔ ان میں طلبہ کی حاضری کا ریکارڈ، چہرہ شناسائی نظام کے ذریعے حاضری کی نگرانی، اور آدھار سے مربوط ڈیجیٹل فیس ادائیگی کے نظام کا نفاذ شامل ہے۔

مزید یہ کہ کالجوں کا جائزہ اس بنیاد پر بھی لیا جائے گا کہ وہ طلبہ کو تحقیق اور جدت طرازی میں کس حد تک شامل کر رہے ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اداروں کا معیار، کیمپس پلیسمنٹس کی مؤثریت اور قومی و بین الاقوامی درجہ بندی میں ان کی کارکردگی بھی اس جائزے کا حصہ ہوگی۔

ریاستی حکومت کے قواعد و ضوابط پر عمل آوری کی بھی سختی سے جانچ کی جائے گی۔ صرف وہی ادارے جو ان جامع معیارات پر پورا اتریں گے، فیس میں اضافہ کرنے کے اہل سمجھے جائیں گے۔

یہ پالیسی تبدیلی تلنگانہ کی ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم میں احتساب قائم کرنے اور بہتر کارکردگی دکھانے والے اداروں کو انعام دینے کے مقصد سے کی گئی ہے۔