Read in English  
       
Media Regulation

حیدرآباد ۔ مرکز کی مودی حکومت نے ٹیلی ویژن نیوز چینلز کی ٹی آر پی ریٹنگز کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے براڈکاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر ہفتہ وار ناظرین کے اعداد و شمار جاری نہ کرے۔ تاہم حکام کے مطابق یہ فیصلہ میڈیا رپورٹنگ میں توازن برقرار رکھنے کیلئے کیا گیا ہے۔

وزارت کی ہدایات کے مطابق نیوز چینلز سے متعلق ناظرین کی پیمائش کے اعداد و شمار کم از کم 4 ہفتوں تک جاری نہیں کیے جائیں گے۔ مزید برآں حکام نے کہا ہے کہ آئندہ ہدایات تک اس فیصلے پر عمل جاری رہے گا۔

سنسنی خیز رپورٹنگ پر تشویش | Media Regulation

حکام کے مطابق بعض ٹی وی چینلز نے مغربی ایشیا میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کی رپورٹنگ کے دوران غیر ضروری سنسنی پیدا کی۔ اس کے نتیجے میں کئی چینلز نے قیاس آرائیوں اور مبالغہ آمیز خبروں کو نشر کیا تاکہ زیادہ ناظرین حاصل کیے جا سکیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی رپورٹنگ عوام میں خوف اور بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ خاندان جن کے رشتہ دار اس خطے میں موجود ہیں، ایسی خبروں سے مزید پریشان ہو سکتے ہیں۔

ریٹنگز مقابلہ کم کرنے کی کوشش | Media Regulation

حکومت کے مطابق ٹی آر پی نظام کی عارضی معطلی کا مقصد سنسنی خیز رپورٹنگ کو روکنا ہے جو اکثر ریٹنگز کے مقابلے کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے نیوز چینلز کو ذمہ دارانہ صحافت کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس طرح کا قدم اٹھایا گیا ہو۔ اس سے قبل 2020 میں ٹی آر پی اسکام کی تحقیقات کے دوران بھی براڈکاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل نے تقریباً 3 ماہ تک نیوز چینلز کی ریٹنگز معطل کر دی تھیں۔

حکام کے مطابق تازہ فیصلہ کچھ عرصے کیلئے نیوز چینلز کے درمیان سخت مقابلے کو کم کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی توقع کی جا رہی ہے کہ اس اقدام سے ذمہ دارانہ اور متوازن رپورٹنگ کو فروغ ملے گا۔